ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 349 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 349

سب باتوں پر جب یکجائی نظر کرکے پھر بھی کوئی نہیں مانتا تو وہ کبھی نہ مانے گا۔ایسے ضدّی لوگوں کو حضرت عیسٰیؑ نے بھی کہا کہ حرامکارلوگ معجزہ طلب کرتے ہیں مگر ان کو کوئی معجزہ نہ دیا جاوے گا۔پس ایسی باتوں سے ڈرنا چاہیے۔آبائی تقلید اور رسم اور عقائد کی پابندی کا ڈر نہ ہونا چاہیے یہ کوئی شَے نہیں ہیں۔نہ اُن سے انسان کو تسلی ملتی ہے۔وہ نور جو آسمان سے نازل ہوتا ہے وہ حقیقی تسلی دیتا ہے۔۱ ۲۱؍دسمبر ۱۹۰۳ء تقریر کی اہمیت بعد نماز عید الفطر ظہر کے وقت جب حضرت اقدس مسجد میں تشریف لائے تو بعض احباب نے ذکر کیا کہ گورداسپور میں چند ایک شخص ایسے ہیں جن کو بڑا اشتیاق حضور کی زبان مبارک سے دعویٰ کے دلائل سننے کا ہے۔اس پر آپ نے فرمایاکہ اگر کوئی تقریب نکل آئی تو انشاء اللہ وہاں ایک مجمع کرکے بیان کر دیئے جاویں گے اصل ذریعہ تبلیغ کا تقریرہی ہے اور انبیاء اس کے وارث ہیں۔اب انگریزوں نے اسی کی تقلید کی ہے۔بڑی بڑی یونیورسٹیوں میں ان کا طریق تعلیم یہی ہے کہ تقریروں کے ذریعہ سے تعلیم دی جاتی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بعض وقت اس قدر لمبی تقریر فرماتے تھے کہ صبح سے لے کر عشاء تک ختم نہ ہوتی تھی۔درمیان میں نمازیں آجاتیں تو آپ ان کو ادا کرکے پھر تقریر شروع کردیتے تھے۔مامورین سے غریب لوگ ہی فائدہ اُٹھاتے ہیں اپنے مخالفین اور طبقہ امراء و رؤساء کے متعلق فرمایاکہ میرا خیال ہے کہ اکثر اُن میں سے بد نصیب ہی مَریں گے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں کس قدر بادشاہ تھے جو اس وقت آپ کے معاصرین سے تھے لیکن ان کو قبولیت کی توفیق عطا نہیں ہوئی۔پھر خدا تعالیٰ نے ان کے بعد غریبوں کو بادشاہ کیا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ۱ البدر جلد ۲ نمبر ۴۸ مورخہ ۲۴ ؍دسمبر ۱۹۰۳ء صفحہ ۳۸۳، ۳۸۴