ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 348 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 348

دلیلِ صداقت وقت خود ایک نشان ہے اور وہ بتلارہا ہے کہ اس وقت ایک مصلح کی ضرورت ہے۔اب وقت آزمائش اور امتحان کا ہرگز نہیں ہے۔اگر کوئی نہیں مانتا تو بتلائے کہ ہمارا کیا بگاڑتا ہے۔مکہ میں اگر صد ہا آدمی انکار کرکے تباہ ہوئے تو بتلائو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا بگاڑ لیا۔ایک مرتد ہوتا تو خدا سو اور لے آتا کیا یہ غور کی بات نہیں کہ اگر ہمارا کار خانہ خدائی نہ ہوتا تو یہ آج تک کب کا تباہ ہو جاتا۔ایک وہ وقت تھا کہ میں اکیلا پھر تا تھا اور اب وہ وقت ہے کہ دو لاکھ سے زیادہ آدمی میرے ساتھ ہیں۔آج سے ۲۲،۲۳ برس پیشتر اس نے بتلایا جوکہ براہین میں درج ہے کہ میں تجھے کامیاب کروں گااور لاکھوں آدمیوں کو تیرے ساتھ کروں گا۔اس کتاب کو لے کر دیکھو اور پڑھو اور پھر سوچو کہ کیا یہ انسان کا فعل ہے کہ اس قدر دراز زمانہ پیشتر ایک خبر کو درج کرے اور پھر اس قدر مخالفت ہو اور وہ بات پوری ہو کر رہے پس جوشخص خدا کے اس فعل پر ایمان نہیں لاتا وہ بد بخت مَرے گا۔نشان نمائی کا مطالبہ کرنے والے نشان دیکھنے والے دو قسم کے ہوتے ہیں ایک تو لیکھرامی کہ شوخی اور شرارت کرتے ہیں اور خدا کی باتوں پر ہنسی اور تمسخر ان کا کام ہوتا ہے ایسے جہنم واصل ہوتے ہیں جیسے کہ لیکھرام ہوا۔اور ایک وہ کہ سنّت نبوی کے موافق نشان چاہتے ہیں کہ دنیا کی حیثیت بھی بنی رہے اور نشان بھی ظاہر ہو یہ نہیں کہ قیامت کا نمونہ ان کے لیے ظاہر ہو اور خدا تعالیٰ تمام کائنات کو زیر و زبر کر دے (اس صورت میں جب وہ خود مَر ہی جاوے گا تو نشان کون دیکھے گا)ایمان کی حد یہی ہے کہ عقل بھی خرچ ہو اور انسان فہم وفراست سے کام لے کر قرائنِ مُرجحہ کو دیکھے۔نہ یہ چاہے کہ سب کچھ انکشاف ہو جاوے۔تو پھر اسے ثواب کس بات کا؟ وہ تو ایمان ہی نہیں ہے جس میں پردہ نہیں ہے اس لیے خدا فرماتا ہے کہ جو لوگ نشانوں کو دیکھ کر ایمان لاتے ہیں ان کا ایمان نفع نہ دے گا۔انسان من وجہ دیکھے کہ زمانہ کی ضرورت کیا تقاضا کرتی ہے۔وہ ایک مصلح کو چاہتی ہے کہ نہیں۔پھر ان وعدوں پر نظر ڈالے جو نصرت اور تائید کے خدا نے ہم سے قبل از وقت کئے اوروہ سب پورے ہوئے۔غرضیکہ ان سب باتوں پر جب یکجائی نظر کرکے پھر بھی کوئی نہیں مانتا تو وہ کبھی نہ مانے گا۔ایسے ضدّی لوگوں کو حضرت عیسٰیؑ نے بھی کہا کہ حرامکارلوگ معجزہ طلب کرتے ہیں مگر ان کو کوئی معجزہ نہ دیا جاوے گا۔پس ایسی باتوں سے ڈرنا چاہیے۔آبائی تقلید اور رسم اور عقائد کی پابندی کا ڈر نہ ہونا چاہیے یہ کوئی شَے نہیں ہیں۔نہ اُن سے انسان کو تسلی ملتی ہے۔وہ نور جو آسمان سے نازل ہوتا ہے وہ حقیقی تسلی دیتا ہے۔۱