ملفوظات (جلد 5) — Page 350
میرا خیال ہے کہ اکثر اُن میں سے بد نصیب ہی مَریں گے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں کس قدر بادشاہ تھے جو اس وقت آپ کے معاصرین سے تھے لیکن ان کو قبولیت کی توفیق عطا نہیں ہوئی۔پھر خدا تعالیٰ نے ان کے بعد غریبوں کو بادشاہ کیا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ہمارے متبعین پر بھی ایک زمانہ ایسا آوے گا کہ عروج ہی عروج ہوگا لیکن یہ ہمیں خبر نہیں کہ ہمارے دور میں ہویا ہمارے بعد ہو۔خدا تعالیٰ نے یہ وعدہ فرمایا ہے کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔سو یہ بات ابھی پوری ہونے والی ہے۔یہ لوگ اگر اس وقت سمجھ بھی لیویں تو بھی جو اِن کی خود تراشیدہ مصلحتیں ہیں وہ قبولیت کی اجازت نہیں دیتیں۔یہ خدا کی سنّت ہے کہ اوّل گروہ غربا کو اپنے لیے منتخب کیا کرتا ہے اور پھر انہی کو کامیابی اور عروج حاصل ہوا کرتا ہے۔کوئی نبی نہیں گذرا کہ وہ (ظاہری حیثیت سے بھی) دنیا میں ناکامیاب رہا ہو۔ہمیں اس اَمر سے ہرگز تعجب نہیں کہ ہمارے متبعین امیر نہ ہوں گے۔امیر تو یہ ضرور ہوں گے لیکن افسوس اس بات سے آتا ہے کہ اگر یہ دولت مند ہوگئے تو پھر انہی لوگوں کے ہمرنگ ہوکر دین سے غافل نہ ہوجاویں اور دنیا کو مقدم کرلیں۔جب تک کمزوری اور غریبی ہوتی ہے تب تک تقویٰ بھی انسان کے اندر ہوتا ہے۔صحابہؓ کی بھی اوّل یہی حالت تھی۔پھر جب کڑوڑہا مسلمان ہوگئے اور تموّل وغیرہ ان میں آگیا توخبیث بھی آکر شامل ہوگئے۔ہم بھی خدا کا شکر کرتے ہیں کہ ہماری جماعت کی تعداد غربا میں ترقی کررہی ہے۔(بعد نماز مغرب) مسیح موعود علیہ السلام کی سادگی بعد ادائیگی نماز مغرب حضرت اقدس نے جلسہ فرمایا۔تھوڑی دیر کے بعد جناب نواب محمد علی خان صاحب کے صاحبزادہ زریں لباس سے ملبّس حضور کی خدمت میں نیاز مندانہ طریق پر حاضر ہوئے۔آپ نے اُن کو اپنے پاس جگہ دی۔ان کو اس ہیئت میں دیکھ کر خدا کے برگزیدہ نے بڑی سادگی سے جناب نواب صاحب سے دریافت کیا کہ ان کی کیا رسم ادا ہونی ہے؟ نواب صاحب نے جواب دیا کہ آمین ہے۔اس اثناء میں ایک سروپا کا تھال آیا اور وہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے روبرو دھرا گیا۔چند لمحہ کے بعد پھر آپ نے دریافت فرمایا کہ اب آگے کیا ہونا ہے۔عرض کی گئی کہ اسے دستِ مبارک لگا دیا جاوے اور دعا فرمائی جاوے۔چنانچہ حضور نے ایسا ہی کیا اور پھر فوراً تشریف لے گئے۔۱ ۱ البدر جلد ۳ نمبر ۲ مورخہ ۸ ؍جنوری ۱۹۰۴ء صفحہ ۱۲