ملفوظات (جلد 5) — Page 335
ہوتے ہیں اس لیے اختلاف پڑ جاتا ہے اور نیز پیشگوئیوں کے متشابہات کے حصہ میں یہ بھی ممکن ہے کہ بعض واقعات پیشگوئیوں کے جن کا ایک ہی دفعہ ظاہر ہونا امید رکھا گیا ہے وہ تدریجاًظاہر ہوں یا کسی اَور شخص کے واسطے سے ظاہر ہوں جیسا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیشگوئی کہ قیصر وکسریٰ کے خزانوں کی کنجیاں آپ کے ہاتھ پر رکھی گئی ہیں حالانکہ ظاہر ہے کہ پیشگوئی کے ظہور سے پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو چکے تھے اور آنجناب نے نہ قیصر اور کسریٰ کے خزانہ کو دیکھا اور نہ کنجیاں دیکھیں مگر چونکہ مقدر تھا کہ وہ کنجیاں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ملیں کیونکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا وجود ظلّی طور پر گویا آنجناب صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود ہی تھا اس لیے عالم وحی میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ قرار دیا گیا۔خلاصہ کلام یہ کہ دھوکا کھانے والے اسی مقام پر دھوکا کھاتے ہیں وہ اپنی بد قسمتی سے پیشگوئی کے ہر ایک حصہ کی نسبت یہ امید رکھتے ہیں کہ وہ ظاہری طور پر ضرور پورا ہوگا اور پھر جب وقت آتا ہے اور کوئی مامور من اللہ آتا ہے تو جو جو علامتیں اس کے صدق کی نسبت ظاہر ہو جائیں ان کی کچھ پروا نہیں رکھتے اور جو علامتیں ظاہری صورت میں پوری نہ ہوں یا ابھی ان کا وقت نہ آیا ہو ان کو بار بار پیش کرتے ہیں۔ہلاک شدہ اُمتیں جنہوں نے سچے نبیوں کو نہیں مانا ان کی ہلاکت کا اصل موجب یہی تھا اپنے زعم میں تو وہ لوگ اپنے تئیںبڑے ہو شیار جانتے رہے ہیں مگر ان کے اس طریق نے قبول حق سے ان کو بے نصیب رکھا۔یہ عجیب ہے کہ پیشگوئیوں کی نافہمی کے بارے میں جو کچھ پہلے زمانہ میں یہود اور نصاریٰ سے وقوع میں آیا اور انہوں نے سچوں کو قبول نہ کیا ایسا ہی میری قوم مسلمانوں نے میرے ساتھ معاملہ کیا۔یہ تو ضروری تھا کہ قدیم سنّت اللہ کے موافق وہ پیشگوئیاں جو مسیح موعود کے بارے میں کی گئیں وہ بھی دوحصوں پر مشتمل ہوتیں ایک حصہ بیّنات کا جو اپنی ظاہر صورت پر واقع ہونے والا تھا اور ایک حصہ متشابہات کا جو استعارات اور مجازات کے رنگ میں تھا لیکن افسوس کہ اس قوم نے بھی پہلے خطاکار لوگوں کے قدم پر قدم مارا اور متشابہات پراَڑ کر ان بیّنات کو ردّ کر دیا جو نہایت صفائی سے پوری ہو گئی تھیں حالانکہ شرط تقویٰ یہ تھی کہ پہلی قوموں کے ابتلاؤں کو یاد کرتے۔متشابہات پر زور نہ مارتے اور