ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 336 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 336

بیّنات سے یعنی ان باتوں اور ان علا متوں سے جو روز روشن کی طرح کھل گئی تھیں فائدہ اُٹھاتے مگر وہ ایسا نہیں کرتے بلکہ جب جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم کی وہ پیشگوئیاں پیش کی جاتی ہیں جن کے اکثر حصے نہایت صفائی سے پورے ہو چکے ہیں تو نہایت لاپرواہی سے ان سے منہ پھیر لیتے ہیں اور پیشگوئیوں کی بعض باتیںجو استعارات کے رنگ میں تھیں پیش کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ حصہ پیشگوئیوں کا کیوں ظاہری طور پر پورا نہیں ہوا اور بایں ہمہ جب پہلے مکذبوں کا ذکر آوے جنہوں نے بعینہٖ ان لوگوں کی طرح واقع شدہ علامتوں پر نظر نہ کی اور متشابہات کا حصہ جو پیشگوئیوں میں تھا اور استعارات کے رنگ میں تھا اس کو دیکھ کر کہ وہ ظاہری طور پر پورا نہیں ہوا حق کو قبول نہ کیا تو یہ لوگ کہتے ہیں کہ اگر ہم ان کے زمانہ میں ہوتے تو ایسا نہ کرتے حالانکہ اب یہ لوگ ایسا ہی کررہے ہیں جیسا کہ ان پہلے مکذبوں نے کیا۔جن ثابت شدہ علامتوں اور نشانوں سے قبول کرنے کی روشنی پیدا ہوسکتی ہے ان کو قبول نہیں کرتے اور جو استعارات اور مجازات اور متشابہات ہیں ان کو ہاتھ میں لیے ہوئے پھر تے ہیں اور عوام کو دھوکا دیتے ہیں کہ یہ باتیں پوری نہیں ہوئیں حالانکہ سنّت اللہ کی تعلیم ِطریق کے موافق ضرور تھا کہ وہ باتیں اس طرح پوری نہ ہوتیں جس طرح ان کا خیال ہے یعنی ظاہری اور جسمانی صورت پر بے شک ایک حصہ ظاہری طور پر اور ایک حصہ مخفی طور پر پورا ہو گیا، لیکن اس زمانہ کے متعصّب لوگوں کے دلوں نے نہیں چاہا کہ قبول کریں وہ تو ہر ایک ثبوت کو دیکھ کر منہ پھیر لیتے ہیں۔وہ خدا کے نشانوں کو انسان کی مکاری خیال کرتے ہیں۔جب خدائے قدوس کے پاک الہاموں کو سنتے ہیں تو کہتے ہیں کہ انسان کا افترا ہے مگر اس بات کا جواب نہیں دے سکتے کہ کیا کبھی خدا پر افترا کرنے والے کو مفتریات کے پھیلانے کے لیے وہ مہلت ملی جو سچے ملہموں کو خدا تعالیٰ کی طرف سے ملی؟ کیا خدا نے نہیں کہا کہ الہام کا افترا کے طور پر دعویٰ کرنے والے ہلاک کئے جائیں گے اور خدا پر جھوٹ بو لنے والے پکڑے جائیں گے؟ یہ تو توریت میں بھی ہے کہ جھوٹا نبی قتل کیا جائے گا اور انجیل میں بھی ہے کہ جھوٹا جلد فنا ہوگا اور اس کی جماعت متفرق ہو جائے گی۔کیا کوئی ایک نظیر بھی ہے کہ جھوٹے مُلہم نے جو خدا پر افترا کر نے والا تھا ایامِ افترا میں وہ عمر پائی جواس عاجز کو ایامِ دعوتِ الہام