ملفوظات (جلد 5) — Page 334
آئے گا اور پھران کا مسیح موعود بڑے بادشاہ کی طرح ظاہر ہوگا اور یہودیوں کو امارت اور حکومت بخشے گا حالانکہ یہ سب باتیں پوری ہو چکیں اور اس پر انیس سو برس کے قریب عرصہ گزر گیا اور آنے والا آبھی گیا اور اس دنیا سے اُٹھا یا بھی گیا۔۱ محکم اور متشابہ پیشگو ئیاں یہ بات نہایت کار آمد اور یاد رکھنے کے لائق تھی کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے مامور ہو کر آتے ہیں خواہ وہ رسول ہوں یا نبی یا محدث اور مجدّد۔ان کی نسبت جو پہلی کتابوں میں یا رسولوں کی معرفت پیشگوئیاں کی جاتی ہیں ان کے دو حصے ہوتے ہیں۔ایک وہ علامات جو ظاہر ی طور پر وقوع میں آتی ہیں اور ایک متشابہات جو استعارات اور مجازات کے رنگ میں ہوتی ہیں۔پس جن کے دلوں میں زیغ اور کجی ہوتی ہے وہ متشابہات کی پیروی کرتے ہیں اور طالب صادق بیّنات اور محکمات سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔یہود اور عیسائیوں کو یہ ابتلا پیش آچکے ہیں پس مسلمانوں کے اولو الابصار کو چاہیے کہ ان سے عبرت پکڑیں اور صرف متشابہات پر نظر رکھ کر تکذیب میں جلدی نہ کریں اور جوباتیں خدا تعالیٰ کی طرف سے کھل جائیں ان سے اپنی ہدایت کے لیے فائدہ اٹھاویں۔یہ تو ظاہر ہے کہ شک یقین کو رفع نہیں کرسکتا۔پس پیشگوئیوں کا وہ دوسرا حصہ جو ظاہری طور پر ابھی پورا نہیں ہو اوہ ایک اَمر شکی ہے کیونکہ ممکن ہے کہ ایلیاء کے دوبارہ آنے کی طرح وہ حصہ استعارات یا مجاز کے رنگ میں پورا ہو گیا ہو مگر انتظار کرنے والا اس غلطی میں پڑا ہو کہ وہ ظاہری طور پر کسی دن پورا ہوگا اور یہ بھی ممکن ہے کہ بعض احادیث کے الفاظ محفوظ نہ رہے ہوں کیونکہ احادیث کے الفاظ وحی متلوکی طرح نہیں اور اکثر احادیث احاد کا مجموعہ ہیں اعتقادی اَمر تو الگ بات ہے جو چاہو ا عتقاد کرو مگر واقعی اور حقیقی فیصلہ یہی ہے کہ احاد میں عندالعقل امکان تغیر الفاظ ہے۔چنانچہ ایک ہی حدیث جو مختلف طریقوں اور مختلف راویوں سے پہنچتی ہے اکثر ان کے الفاظ اور ترتیب میں بہت سافرق ہوتا ہے حالانکہ وہ ایک ہی وقت میں ایک ہی منہ سے نکلی ہے۔پس صاف سمجھ آتا ہے کہ چونکہ اکثر راویوں کے الفاظ اور طرزِبیان جُدا جُدا ۱ البدر جلد۲نمبر۴۷ مورخہ ۱۶؍دسمبر۱۹۰۳ء صفحہ۳۷۲