ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 333 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 333

کے وقت میں اکثر یہودیوں کو پیش آیا۔انہوں نے بھی اپنے اسلاف کی عادت کے موافق نبیوں کی پیشگوئیوں کے اس حصہ سے فائدہ اُٹھانا نہ چاہا جو بیّنات کا حصہ تھا اور متشابہات جو استعارات تھے اپنی آنکھ کے سامنے رکھ کر یا تحریف شدہ پیشگوئیوں پر زور دے کر اس نبی کریم کی دولت ِاطاعت سے جو سیّدالکونین ہے محروم رہ گئے اور اکثر عیسائیوں نے بھی ایسا ہی کیا۔انجیل کی کھلی کھلی پیشگوئیاںہمارے صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں تھیں۔ان کو تو ہاتھ تک نہ لگا یا اور جو سنّت اللہ کے موافق پیشگوئیوں کا دوسرا حصہ یعنی استعارات اور مجازات تھے ان پر گر پڑے اس لئے حقیقت کی طرف راہ نہ پا سکے، لیکن ان میں سے وہ لوگ جو حق کے طالب تھے اور جو پیشگوئیوں کی تحریر میں طرزوعادتِ الٰہی ہے اس سے واقف تھے انہوں نے انجیل کی ان پیشگوئیوں سے جو آنے والے بزرگ نبی کے بارے میں تھیں فائدہ اُٹھایا اور مشرف با اسلام ہوئے اور جس طرح یہود میں سے اس گروہ نے جو حضرت عیسٰیؑ پر ایمان لائے تھے پیشگوئیوں کے بیّنات سے دلیل پکڑی تھی اور متشابہات کو چھوڑ دیا تھا ایسا ہی ان بزرگ عیسائیوں نے بھی کیا اور ہزار ہا نیک بخت انسان ان میں سے اسلام میں داخل ہوئے۔غرض ان دونوں قوموں یہود و نصاریٰ میں سے جس گروہ نے متشابہات پر جم کر انکار پر زور دیا اور بینات پیشگوئیوں سے جو ظہور میں آئیں فائد ہ نہ اٹھایا ان دونوں گروہ کا قرآن شریف میں جا بجا ذکر ہے اور یہ ذکر اس لئے کیا گیا کہ تاان کی بد بختی کے ملاحظہ سے مسلمانوں کو سبق حاصل ہو اور اس بات سے متنبہ رہیں کہ یہود نصاریٰ کی مانند بیّنات کو چھوڑ کر اور متشابہات میں پڑکر ہلاک نہ ہو جائیں اور ایسی پیشگوئیوں کے بارے میں جو مامور من اللہ کے لئے پہلے سے بیان کی جاتی ہیں اُمید نہ رکھیں کہ وہ اپنے تمام پہلوئوں کے رُو سے ظاہری طور پر ہی پوری ہوں گی بلکہ اس بات کے ماننے کے لئے طیار رہیں کہ قدیم سنّت اللہ کے موافق بعض حصے ایسی پیشگوئیوں کے استعارات اور مجازات کے رنگ میں بھی ہوتے ہیں اور اسی رنگ میں وہ پوری بھی ہو جاتی ہیں مگر غافل اور سطحی خیال کے انسان ہنوز انتظار میں لگے رہتے ہیں کہ گویا ابھی وہ باتیں پوری نہیں ہوئیں بلکہ آئندہ ہوں گی۔جیسا کہ یہود ابھی تک اس بات کو روتے ہیں کہ ایلیاء نبی دوبارہ دنیا میں