ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 329 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 329

بعض لوگ اس سے تمسخر کرتے ہیں اور آج کل بہت لوگ نام کے مسلمان ہیں جو کہ ارکانِ نماز کی بجاآوری کو ایک بیہودہ حرکت کہتے ہیں لیکن ایک مومن کو ہرگز لازم نہیں کہ ان باتوں اور ہنسی اور استہزا سے وہ اس کی ادائیگی کو ترک کرے۔لوگوں کے ایسے خیالات اور خدا کے احکام کو نظر استخفاف کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ زمانہ عذاب کو چاہتا ہے۔ان لوگوں کی زندگی مُردوں کی سی ہے۔انبیاء کے سلسلہ پر کہ جس کے ذریعہ سے ایمان حاصل ہوتا ہے ان کو ایمان نہیں ہے۔مگر ہم سچی اور حقیقی رؤیت سے گواہی دیتے ہیں کہ خدا بر حق ہے اور سلسلہ انبیاء کا برحق ہے۔مَرنے پر ان لوگوں کو پتا لگے گا کہ جنّت اور دوزخ سب کچھ جس سے آج یہ منکر ہیں بر حق ہے۔رعایتِ اسباب جب سے آزادی کے خیالات اور تعلیم نے دلوں اور دماغوں میں جگہ لی ہے اُس وقت سے بہت بگاڑپھیلاہے۔خیالات ایسے پراگندہ ہوگئے ہیں کہ شریعت کو خود تر میم کر لیا ہے۔دنیا کو اپنا مقصود بنا رکھا ہے۔شریعت نے ایک حد تک رعایتِ اسباب کی اجازت دی ہے۔مثلاً اگر ایک قطعہ زمین کا ہو اور اسے کاشت نہ کیا جاوے تو اس کی نسبت سوال ہوگا کہ کیوں کاشت نہ کیا؟مگر بہ ہمہ وجوہ اسباب پر سرنگوں ہونا اور اسی پر بھروسہ کرنا اور خدا پر توکّل چھوڑ دینا یہ شرک ہے اور گویا خدا کی ہستی سے انکار۔رعایت اسباب اس حد تک کرنی چاہیے کہ شرک لازم نہ آوے۔ہمارا مذہب یہ ہے کہ ہم رعایتِ اسباب سے منع نہیں کرتے مگر اس پر بھروسہ کرنے سے منع کرتے ہیں۔دل بایار اور دست باکار والی بات ہونی چاہیے لیکن حال میں دیکھا جاتا ہے کہ زبانوں پر تو سب کچھ ہے توکّل بھی ہے۔توحید بھی ہے مگر دل میں مقصود بالذّات صرف دنیا کو بنا رکھاہے۔رات دن اسی خیال میں ہیں کہ مال بہت سا مل جاوے۔عزّت دنیا میں حاصل ہو۔یہ لوگ یہ خیال نہیں کرتے کہ ہم زہر کھا رہے ہیں جس نے ہلاک کر دینا ہے۔ہماری شریعت اور ہمارا دین دنیا میں کوشش کرنے سے نہیں روکتے صرف اتنی بات ہے کہ دین کو مقدم رکھ کراگر کوشش کرے تو تلاش اسباب جرم نہیں ہے ہاں ایسے طور پر جسے خدا نے حرام ٹھہرایا ہے نہ ہو۔جیسے کہ رشوت اور ظلم وغیرہ سے روپیہ کمایا جاتا ہے۔اگر خدا کی راہ میں صرف کرنے،اولاد پر