ملفوظات (جلد 5) — Page 330
خرچ کرنے اور صدقات وغیرہ کے لیے تلاش اسباب کی جائے تو حرج نہیں کیونکہ مال بھی تو ذریعہ قرب الٰہی ہوتا ہے مگر خدا کو بالکل چھوڑدینا اور بالکل اسباب کا ہو رہنا یہ ایک جذام ہے اور جب تک کہ قبض روح نہ ہوجاوے اس کی خبر نہیں ہوتی۔خدا سے ڈرنا اور تقویٰ اختیار کرنا یہ بڑی نعمت ہے جسے حاصل کرنا چاہیے اور متکبر گردن کش نہ ہونا چاہیے۔حقیقی اخلاق اخلاق دو قسم کے ہوتے ہیں ایک تو وہ ہیں جو آج کل کے نو تعلیم یافتہ پیش کرتے ہیں کہ ملاقات وغیرہ میں زبان سے چاپلوسی اور مداہنہ سے پیش آتے ہیں اور دلوں میں نفاق اور کینہ بھرا ہوا ہوتا ہے۔یہ اخلاق قرآن شریف کے خلاف ہیں۔دوسری قسم اخلاق کی یہ ہے کہ سچی ہمدردی کرے۔دل میں نفاق نہ ہو اور چاپلوسی اور مداہنہ وغیرہ سے کام نہ لے جیسے خدا تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّ اللّٰهَ يَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَ الْاِحْسَانِ وَ اِيْتَآئِ ذِي الْقُرْبٰى(النحل:۹۱) تو یہ کامل طریق ہے اور ہر ایک کامل طریق اور ہدایت خدا کے کلام میں موجود ہے جو اس سے روگردانی کرتے ہیں وہ اور جگہ ہدایت نہیں پا سکتے۔اچھی تعلیم اپنی اثر اندازی کے لیے دل کی پاکیزگی چاہتی ہے جو لوگ اس سے دور ہیں اگر عمیق نظر سے ان کو دیکھو گے تو ان میں ضرور گند نظر آئے گا۔زندگی کا اعتبار نہیں ہے۔نماز،صدق و صفا میں ترقی کرو۔۱ بلا تاریخ ایمان کی حقیقت ایمان اس بات کو کہتے ہیں کہ اس حالت میں مان لینا جبکہ ابھی علم کمال تک نہیں پہنچا اور شکوک اورشبہات سے ہنوز لڑائی ہے۔پس جو شخص ایمان لاتا ہے یعنی باوجود کمزوری اور نہ مہیا ہونے کل اسباب یقین کے اس بات کو اغلب احتمال کی وجہ سے قبول کرلیتا ہے وہ حضرتِ احدیت میں صادق اور راستباز شمار کیا جاتا ہے اور پھر اس کو موہبت کے طور پر معرفت تامہ حاصل ہوتی ہے اور ایمان کے بعد عرفان کا جام اس کو پلایا جاتا ہے۔اس لیے ایک مرد ۱ البدر جلد ۲نمبر۴۶ مورخہ ۸؍ دسمبر ۱۹۰۳ء صفحہ ۳۶۲، ۳۶۳