ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 328 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 328

آپ کو ہر آن واحد میں خدا کا محتاج جاننا اور اس کے آستانہ پر سر رکھنا یہی اسلام ہے اور اگر کوئی مسلمان ہو کر اسلام کے طریق کو اختیار نہیں کرتا اور اس پر قدم نہیں مارتا تو پھر اس کا اسلام ہی کیا ہے؟ اسلام نام ہے خدا کے آگے گردن جھکا دینے کا۔ذرا سوچ کر دیکھو کہ اگر انسان کو ایک سوئی نہ ملے تو اس کا کس قدر حرج ہوتا ہے تو پھر کیا خدا کا وجود ایسا ہوسکتا ہے کہ اس کی ضرورت انسان کو نہ ہو اور اس کے وجود کے بغیر وہ زندہ رہ سکے۔جب تک انسان کو صحت، مال، اقتدار حاصل ہوتا ہے تب تک تو اس کایہ مذہب ہوتا ہے کہ اسباب پر توکّل اور بھروسہ نہ کرے اور اپنے آپ کو خدا کا محتاج نہ جانے،لیکن جب مصائب اور مشکلات آکر پڑتے ہیں تو اس وقت یہ مذہب خود بخود بدلنا پڑتا ہے۔اسی لیے جو لوگ مصائب اور شدائد کا نشانہ رہتے ہیں ان کا مذہب ہی اور ہوتا ہے۔وہ دیکھتے ہیں کہ ایک ایسے وجود کی ضرورت ہے جو طاقت والا ہو اور ہمیں پناہ دے سکے۔ایک صاحب محمد رمضان ہوتے تھے وہ خدا کے قائل نہ تھے مگر جب مرض الموت نے آکر ان کو پکڑا تو آخر اپنا مذہب بدلا اور اس وقت کہتے تھے کہ اگر ایک دفعہ مجھے تندرستی حاصل ہو جاوے تو میں پھر کبھی خدا کے وجود سے منکر نہ ہوں گا۔اس لیے انسان کو لازم ہے کہ ہمیشہ غفلت سے پرہیز کرے اور اس ذات پر نظر رکھے جس کے بغیر ایک ذرّہ کا قیام بھی مشکل ہے۔لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ کے یہی معنے ہیں کہ انسان اس کی طرف بار بار رجوع کرے اور اس کے مقابلے پر کسی اور وجود اور شَے کو متصرّف اور مقتدر نہ جانے۔جو شخص ایک بکری رکھتا ہے تو اس سے اسی وقت مستفید ہوتا ہے دودھ حاصل کرتا ہے لیکن جس نے خدا کا نام لے کر اس کی ضرورت کو بالکل محسوس نہ کیا اور نظر استخفاف سے اسے دیکھا اور ایک فرضی بت کی طرح اس کے وجود کو سمجھا تو خدا کو اس شخص کی کیا پروا ہے۔انسان پر جو انقلابات آتے ہیں وہ اس ہستی کی ضرورت کو خود ثابت کرتے ہیں۔اس جماعت میں داخل ہو کر اوّل تغیر زندگی میں کرنا چاہیے کہ خدا پر ایمان سچا ہو کہ وہ ہر مصیبت میں کام آتا ہے۔پھر اس کے احکام کو نظر خفت سے ہرگز نہ دیکھا جاوے بلکہ ایک ایک حکم کی تعظیم کی جاوے اور عملاًاس