ملفوظات (جلد 5) — Page 294
۲۱؍ اکتو بر ۱۹۰۳ء امامت نہ کرانے کی وجہ امامت نماز کی نسبت ایک شخص نے سوال کیا کہ حضور کس لیے نماز نہیں پڑھا تے؟ فرمایا کہ حدیث میں آیا ہے کہ مسیح جو آنے والا ہے وہ دوسروں کے پیچھے نماز پڑھے گا۔۱ ۲۲؍ اکتو بر۱۹۰۳ء ایک آسڑیلوی نو مسلم کے استفسارات کے جوابات ایک یورپین صاحب بہمراہی میاں معراج الدین عمر و حکیم نور محمد صاحب احمدی عصر کے وقت قادیان پہنچ گئے جہاں قادیانی احمدی احباب نے بڑے تپاک سے ان کا استقبال کیا۔نماز مغرب میں وہ جماعت کے ساتھ شامل ہوئے بعد ادائیگی نماز میاں معراج الدین صاحب عمر نے ان کو حضرت اقدس سے انٹر وڈیوس کیا اور ان کے مزید حالات سے یوں اطلاع دی کہ یہ ایک صاحب ہیں جو کہ آسٹریلیا سے آئے ہیں ۷ سال سے مشرف با سلام ہیں اخبارات میں بھی آپ کا چر چا رہا ہے آسٹریلیا سے یہ لنڈن گئے اور وہاں سفیرِروم سے انہوں نے ارادہ ظاہر کیا کہ اسلامی علوم سے واقفیت حاصل کرنا چاہتا ہوں۔سفیرِ روم نے ان کو کہا کہ تم قاہر ہ (دارالسلطنت)مصر میں جاؤ مگرتا ہم مشورہ کے طور پر لارڈ سٹینلے نے ان کو مشورہ دیا کہ تمہارا یہ مدعا بمبئی میں حاصل ہوگا۔یہ وہاں پھر تے ہوئے کلکتہ آئے۔راستہ میں ایک رؤیا دیکھی اور اس جگہ سے لاہور آئے۔جہاں کہ انہوں نے حضور کا تذکرہ سنا اب زیارت کے لیے یہاں حاضر ہوئے۔اب ہم ذیل میں وہ گفتگو درج کرتے ہیں جو کہ نومسلم صاحب اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے درمیان ہوئی۔مشرف باسلام ہو کر ان کا نام محمد عبد الحق رکھا گیا تھا۔۱ البدرجلد ۲ نمبر ۴۱ ،۴۲ مورخہ۲۹؍اکتوبر ، ۸؍ نومبر ۱۹۰۳ءصفحہ ۳۲۱،۳۲۲