ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 295 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 295

کا نام محمد عبد الحق رکھا گیا تھا۔ذیل کی گفتگو جوکہ محمد عبد الحق صاحب اور حضرت اقدس کے مابین ہوئی۔اس کے ترجمان خواجہ کمال الدین صاحب پلیڈر بی۔اے تھے۔محمد عبد الحق صاحب۔میں جہاں کہیں پھرتا رہا ہوں میرا واسطہ ایسے مسلمانوں سے رہا ہے جو کہ یا تو خودانگر یزی جانتے تھے اوربا لمشافہ مجھ سے گفتگو کرتے تھے اور یا بذریعہ تر جمان کے ہم اپنے مطالب کا اظہار کرتے تھے میں نے ایک حد تک لوگوں کے خیالات سے فائدہ اُٹھایا اور بیرونی دنیا میں جو اہلِ اسلام ہیں ان کے کیا حا لات اور خیالات ہیں۔اس کے تعارف کی آرزو رہی۔رُوحانی طور سے جو میل جول ایک کو دوسرے سے ہوسکتا ہے اس کے لیے زبان دانی کی ضرورت نہیں ہے اوراس رُوحانی تعلق سے انسان ایک دوسرے سے جلد مستفید ہوسکتا ہے۔حضرت مسیح موعود۔ہمارے مذہبِ اسلام کے طریق کے موافق روحانی طریق صرف دعا اور توجہ ہے لیکن اس سے فائدہ اُٹھانے کے لیے وقت چاہیے کیونکہ جب تک ایک دوسرے کے تعلقات گاڑھے نہ ہوں اور دلی محبت کا رشتہ قائم نہ ہو جائے تب تک اس کا اثر محسوس نہیں ہوتا۔ہدایت کا طریق یہی دعا اور توجہ ہے۔ظاہری قیل وقال اور لفظوں سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔محمد عبد الحق صاحب۔میری فطرت اس قسم کی واقع ہوئی ہے کہ رُوحانی اتحاد کو پسند کرتی ہے میں اسی کا پیاسا ہوں اور چاہتا ہوں کہ اس سے بھر جاؤں۔جس وقت سے میں قادیان میں داخل ہوا ہوں۔میں دیکھتا ہوں کہ میرا دل تسلی پاگیا ہے اور اب تک جس جس سے میری ملاقات ہوئی ہے مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس سے میرا دیرینہ تعارف ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام۔خدا کا قانونِ قدرت ہے کہ ہر ایک رُوح ایک قالب کو چاہتی ہے جب وہ قالب طیار ہوتا ہے تو اس میں نفخ رُوح خو دبخود ہو جاتا ہے۔آپ کے لیے یہ ضروری اَمر ہے کہ جو حقیقت خدا نے مجھ پر کھولی ہے اُس سے آہستہ آہستہ آگاہی پالیویں۔عام اہلِ اسلام میں جس قدر عقائد اشاعت پائے ہوئے ہیں ان میں بہت سی غلطیاں ہیں اور یہ غلطیاں