ملفوظات (جلد 5) — Page 293
برادری اور قوم کو اسے خدا کے واسطے ترک کرنا پڑتا ہے جب اس کا صدق کمال تک پہنچ جاتا ہے تو وہی ذات پاک تقاضا کرتی ہے کہ اس قدر قر بانیاں جو اس نے کی ہیں وہ اس کے اعمال کے کفارہ کے لیے کافی ہوں۔اہل اسلام میں اب صرف الفاظ پرستی رہ گئی ہے اور وہ انقلاب جسے خدا چاہتا ہے وہ بھول گئے ہیں اس لیے انہوں نے توبہ کو بھی الفاظ تک محدود کر دیا ہے لیکن قرآن شریف کا منشا یہ ہے کہ نفس کی قربانی پیش کی جاوے مَنْ قَضٰى نَحْبَهٗ (الاحزاب:۲۴) دلالت کرتا ہے کہ وہ توبہ یہ ہے جو انہوں نے کی اور مَنْ يَّنْتَظِرُ بتلاتا ہے کہ وہ یہ توبہ ہے جو انہوں نے کرکے دکھلانی ہے اور وہ منتظر ہیں۔جب انسان خدا کی طرف بکلی آجاتا ہے اور نفس کی طرف کو بکلی چھوڑ دیتا ہے تو خدا تعالیٰ اس کا دوست ہو جاتا ہے تو کیا وہ پھر دوست کو دوزخ میں ڈال دے گا؟ نَحْنُ اَوْلِیَآءُ اللّٰہِ۱ سے ظاہر ہے کہ اَحِبَّاء کو دوزخ میں نہیں ڈالتے۔۲۰؍ اکتو بر ۱۹۰۳ء ایک رؤیا شام کے وقت حضرت اقدس نے ذیل کی رؤیا بیان فرمائی کہ ایک بڑا تخت مربع شکل کا ہندوؤں کے درمیان بچھا ہوا ہے جس پرمَیں بیٹھا ہوا ہوں ایک ہندو کسی کی طرف اشارہ کرکے کہتا ہے کہ کرشن جی کہاں ہیں؟ جس سے سوال کیا گیا وہ میری طرف اشارہ کرکے کہتا ہے کہ یہ ہے پھر تمام ہندو روپیہ وغیرہ نذرکے طور پر دینے لگے اتنے ہجوم میں سے ایک ہندو بولا ہے کر شن جی رودّر گو پال (یہ ایک عرصہ دراز کی رؤیا ہے ) ۱ ڈائری نویس یا کاتب کی غلطی معلوم ہوتی ہے مضمون کے لحاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ غالباً حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے نَحْنُ اَبْنٰٓؤُا اللّٰهِ وَ اَحِبَّآؤُهٗ١ؕ قُلْ فَلِمَ يُعَذِّبُكُمْ بِذُنُوْبِكُمْ(المآئدۃ:۱۹) سے استدلال فرمایا ہوگا کہ ’’احباء کو دوزخ میں نہیں ڈالتے۔‘‘واللہ اعلم بالصواب (مرتّب)