ملفوظات (جلد 5) — Page 21
نازک زمانہ زما نہ ایسا آیا ہو اہے کہ لوگ اپنے نفس کی اصلا ح کی طرف متوجہ ہوں۔ہزارہا انعامات اور خدا تعالیٰ کے فضل کے نشانات ہیں اور عیش وعشرت میں زندگی بسر کرنے سے تو نفس کو شرم نہ آئی کہ خدا کا بھی حق ادا کرے مگر شاید اس قہری نشان کو دیکھ کر اپنی اصلاح کی طرف متوجہ ہوں۔افسوس لوگ انعامات اور احسانا ت الٰہیہ سے توشرمندہ نہ ہوئے اب اس عذاب ہی سے ڈرکرسنور جاویں۔ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا میں ایسے ایسے لوگ بھی موجود ہیں کہ مسلمان کہلا کر، مسلمانوں کی اولاد ہو کر اسلام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح گالیاں دیتے ہیں جیسے چوڑھے چمار کسی کو نکالا کرتے ہیں۔اللہ اور رسول سے ان کو بجز گالیوں کے اور کوئی تعلق ہی نہیں۔بڑے گندہ دہن اور پرلے درجے کے عیاش، بدمعاش، بھنگی، چرسی، قمارباز وغیرہ بن گئے ہیں۔اب ایسے لوگوں کی زجراورتوبیخ کے واسطے خدا جوش میں نہ آوے تو کیا کرے۔خداغیور بھی ہے وہ شدید العقاب بھی ہے۔ایسے لوگوں کی اصلاح بھلابجز عذاب اور قہرالٰہی کے نازل ہونے کے ممکن ہے؟ ہرگزنہیں۔چونکہ بعض طبائع عذاب ہی سے اصلاح پذیرہو تی ہیں۔اس لیے ہر ایک شخص کو چاہیے کہ وہ اپنے اعمال کا محاسبہ کرے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ لَا يَسْتَاْخِرُوْنَ۠ سَاعَةً وَّلَا يَسْتَقْدِمُوْنَ۠ (الاعراف:۳۵) جب عذاب الٰہی نازل ہو جاتا ہے توپھر وہ اپنا کام کرکے ہی جاتا ہے اور اس آیت سے یہ بھی استنباط ہوتا ہے کہ قبل ازنزول عذاب توبہ و استغفار سے وہ عذاب ٹل بھی جایا کرتا ہے استغفار کی حقیقت گناہ ایک ایسا کیڑا ہے جو انسان کے خون میں ملا ہوا ہے مگر اس کا علاج استغفار سے ہی ہوسکتا ہے۔استغفارکیا ہے؟ یہی جو گناہ صادرہو چکے ہیں ان کے بدثمرات سے خدا محفوظ رکھے اور جو ابھی صادر نہیں ہوئے اور جوبالقوہ انسان میں موجود ہیں ان کے صدور کا ہی وقت نہ آوے اور اندر ہی اندر وہ جل بھن کرراکھ ہو جاویں۔یہ وقت بڑے خوف کا ہے اس لیے توبہ و استغفار میں مصروف ہو اور اپنے نفس کا مطالعہ کرتے رہو۔ہر مذہب وملّت کے لوگ اور اہل کتاب مانتے ہیں کہ صدقات وخیرات سے عذاب ٹل جاتا ہے