ملفوظات (جلد 5) — Page 20
سے الگ الگ حسا ب ہے سوہر ایک کو اپنے اعمال کی اصلاح اور جانچ پڑتال کرنی چاہیے۔دوسروں کی موت تمہارے واسطے عبرت اور ٹھوکر سے بچنے کا با عث ہونی چاہیے نہ یہ کہ تم ہنسی ٹھٹھے میں بسر کرکے اور بھی خدا سے غافل ہوجائو۔میں نے ایک جگہ توریت میں دیکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک جگہ اس میں فرماتا ہے کہ ایک وقت ہوتا ہے کہ جب میں ایک قوم کو اپنی قوم بنانی چاہتا ہوں تو اس کے د شمنوں کو ہلاک کرکے اسے خوش کرتا ہوں۔مگر اُسی قوم کی بے اعتنائیوں سے ایک وقت پھر ایسا آجاتا ہے کہ اس کو تباہ کرکے اس کے دشمنوں کو خوش کرتا ہوں۔کامیاب ہونے والے فرمایا۔اعمال دو قسم کے ہوتے ہیں بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ وہ دوسروں کی نظر میں نیک اور نمازی وغیرہ ہوتے ہیں مگر ان کا اندر بدیوں اور گناہوں سے بھرا ہوا ہوتا ہے دوسرے وہ لوگ ہوتے ہیں جن کا ظاہر وباطن یکساں ہوتا ہے وہ عنداللہ تقویٰ پرقدم مارنے والے ہوتے ہیں۔مگر ان دونوں سے کامیاب ہونے والے وہی ہوتے ہیں جو عند اللہ متّقی اور خدا کی نظر میں نیک ہوتے ہیں اور ان پر خدا راضی ہوتا ہے صرف لاف زنی کام نہیں آسکتی۔اس وقت دو قوموں کا آپس میں مقابلہ ہے۔ایک توہما رے مخالف ہیں اور دوسری ہماری جماعت۔اب خدا تعالیٰ دونوں کے دلوں کو دیکھتا اور ان کے اعمال سے آگا ہ ہے۔وہی جانتا ہے کہ ہماری جماعت اس کی نگاہ میں کیسی ہے اور دشمن کیسے؟ اور وہ ان سے کہاں تک ناراض ہے پس ہر ایک کو چاہیے کہ اپنا حسا ب خودٹھیک کرلے چاہیے کہ دوسروں کا ذکر کرتے وقت تقویٰ سے بھرے ہوئے دل کے ساتھ اپنے اعمال کا خیال ہو کہ کہاں تک ہم خدا کے منشا کو پورا کرنے والے ہیں یا صرف لافیں ہی لافیں ہیں۔ابھی طاعون موقوف نہیں ہو گئی خدا جانے کب تک اس کا دورہ ہے اور اس نے کیا کچھ دکھا نا ہے۔سات سال سے تو ہم برابردیکھتے ہیں کہ یوماً فیوماً بڑھتی ہی جاتی ہے اورپیچھے قدم نہیں ہٹاتی ہے۔ہرسال پہلے کی نسبت سنا جاتا ہے کہ ترقی پر ہے۔