ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 22 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 22

مگر قبل ازنزول عذاب۔اور جب نازل ہو جاتا ہے تو ہرگز نہیں ٹلتا۔پس تم ابھی سے استغفار کرو اور توبہ میں لگ جاؤ تا تمہاری باری ہی نہ آوے اور اللہ تعالیٰ تمہاری حفاظت کرے۔۱ ۶؍اپریل ۱۹۰۳ء (مجلس قبل از عشاء ) حقیقت دعا فرمایا کہ ہمارے دوستوں کو بعض وقت دعا کے متعلق ابتلا پیش آجاتے ہیں اس لیے مناسب معلوم ہوا کہ ان کو دعا کی حقیقت سے اطلاع دی جاوے اور اسی لیے میں نے حقیقت الدعا کے نام سے ایک رسالہ لکھنا شروع کیا ہے مگر چونکہ طبیعت علیل رہی ہے اس لیے ختم نہیں کرسکا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تمام مدار دعا پر ہی تھا اور ہر ایک مشکل میں آپ دعا کرتے تھے۔ایک روایت سے ثابت ہے کہ آپ کے گیارہ لڑکے فوت ہوگئے ہیں تو کیا آپ نے ان کے حق میں دعا نہ کی ہو گی؟ آج کل ایک عام غلط فہمی لوگوں کے دلوں میں پڑ گئی ہے اور یہ اس جہالت کے زمانے کی نشانی ہے اکثر لوگ کہا کرتے ہیں کہ فلاں بزرگ، فلاں اولیاء کی ایک پھونک مارنے سے صاحبِ کمال ہو گیا اور فلاںکے ہاتھ سے مُردے زندے ہوئے۔بیعت اور توبہ چند ایک احباب نے جو کہ گوجرانوالہ کے ضلع سے حضرت اقدس کی ملاقات کے واسطے تشریف لائے تھے آپ سے ملاقات کی۔ان سب نے بیعت کی۔بعد بیعت ان کو حضرت اقدس نے نصیحت فرمائی۔بیعت میں انسان زبان کے ساتھ گناہ سے توبہ کا اقرار کرتا ہے مگر اس طرح سے اس کا اقرار جائزنہیں ہوتا جب تک دل سے وہ اس اقرار کو نہ کرے۔یہ خدا تعالیٰ کا بڑا فضل اور احسان ہے کہ جب سچے دل سے توبہ کی جاتی ہے تو وہ اسے قبول کرلیتا ہے جیسا کہ فرماتا ہے اُجِيْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ(البقرۃ:۱۸۷) یعنی میں توبہ کرنے والے کی توبہ قبول کرتا ہوں۔خدا تعالیٰ کا یہ وعدہ اس اقرار ۱ البدر جلد ۲نمبر ۱۴ مورخہ ۲۴ ؍اپریل ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۰۶