ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 191 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 191

مسیح موعودعلیہ السلام کا مقامِ ماموریت میں ایک مرد ہوں کہ خدا میرے ساتھ گفتگو کرتا ہے اور اپنے خاص خزانہ سے مجھے تعلیم دیتا ہے اور اپنے ادب سے میری تادیب فر ماتا ہے۔وہ اپنی مجھ پر وحی بھیجتا ہے میں اس کی وحی کی پیروی کرتا ہوں۔ایسی صورت میں مجھے کون سی ایسی ضرورت ہے کہ میں اس کی راہ کو ترک کرکے دوسری متفرق راہیں اختیار کروں؟ جو کچھ آج تک میں نے کہاہے اسی کے اَمر سے کہا ہے اپنی طرف سے کچھ بھی نہیں ملایا۔اور نہ اپنے خدا پر میں نے کوئی افترا باندھا ہے۔مفتری کا انجام ہلاکت ہے پس اس کاروبار پر تعجب کرنے کا کون سا مقام ہے اس قادر مطلق خدا کے کاروبار پر تعجب نہ کرو کیونکہ اس نے تو زمین وآسمان کو پیدا کیا۔وہ جو کچھ چاہتا ہے کرتا ہے اور کسی کو مجال نہیں کہ اس سے پوچھے کہ یہ کیا کیا۔میرے پاس خدا تعالیٰ کی بہت سی شہادتیں ہیں۔اس نے میرے لیے بڑے بڑے نشان دکھلائے ہیں اور اس کی وحی کردہ غیبی خبروں میں جواس نے مجھے دیں ایسے ایسے راز ہیں کہ انسان کی عقل کو ان تک رسائی نہیں ہے پس اس لیے چاہیے کہ طاعون کے بارے میں ہمارے ساتھ جھگڑا نہ کریں اور اس شخص کی طرح نہ ہوویں جس کے دل کو خدا نے غافل کردیا اور اس نے اپنے اسباب کو اپنا خدا قرار دے لیا۔(کیا ان کو اس بات کی خبر نہیں ہے) کہ ہر ایک سبب کا انتہا آخر کار ہمارے خدا تک ہی ہے اور تھوڑی دور تک چل کر اسباب کا سلسلہ ختم ہو جاتا ہے اور صرف اَمرِ خالص ۱ البدر جلد۲ نمبر۲۶مورخہ ۱۷؍جولائی ۱۹۰۳ءصفحہ۲۰۱ ۲ الحکم سے۔’’۵؍جولائی ۱۹۰۳ء دربارِ شام‘‘ احمدی کون ہے؟ (اپنے الفاظ میں) حضور علیہ السلام معمول کے موافق شہ نشین پر جلوس فرماہوئے اورذیل کی تقریر فرمائی۔مجھے معلوم ہوتا ہے کہ ہماری جماعت میں چند ہ دینے والے بہت تھوڑے ہیں۔آئے دن صدہا آدمی بیعت کرکے چلے جاتے ہیں لیکن دریافت کرنے پر بہت ہی کم تعداد ایسے اشخاص کی ہے جو متواتر ماہ بماہ چندہ دیتے ہیں۔