ملفوظات (جلد 5) — Page 190
ایک فقہی مسئلہ ایک لڑکی کے دوبھائی تھے اور ایک والدہ۔ایک بھائی اور والدہ ایک لڑکے کے ساتھ اس لڑکی کے نکاح کے لیے راضی تھے۔مگر ایک بھائی مخالف تھا۔وہ اَور جگہ رشتہ پسندکرتا تھا اور لڑکی بھی بالغ تھی۔اس کی نسبت مسئلہ دریافت کیا گیا کہ اس لڑکی کا نکاح کہاں کیا جاوے۔حضرت اقدسؑ نے دریافت کیا کہ وہ لڑکی کس بھائی کی رائے سے اتفاق کرتی ہے؟ جواب دیا گیا کہ اپنے اس بھائی کے ساتھ جس کے ساتھ والدہ بھی متفق ہے۔فرمایا کہ پھر وہاں ہی اس کارشتہ ہو جہاں لڑکی اور اس کا بھائی دونوں متفق ہیں۔آنحضرتؐکا ابولہب کے لڑکوں سے رشتہ کرنا پھر نکاحوں پر ذکر چل پڑا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی لڑکیوں کے رشتے ابولہب سے۱ کر دئیے تھے حالانکہ وہ مشرک تھا مگر اس وقت تک نکاح کے متعلق وحی کانزول نہ ہوا تھا۔چونکہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم پر توحید غالب تھی اس لیے دخل نہ دیتے تھے اور قومیت کے لحاظ سے بعض امور کو سرانجام دیتے اس لیے ابولہب کو لڑکی دے دی تھی۔رسول کو علمِ غیب نہیں ہوتا رسول عالم الغیب ہوتا ہے کہ نہیں؟ اس پر فرمایا کہ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو علم غیب ہوتاتوآپ زینب کا نکاح زید سے نہ کرتے کیونکہ بعد کو جُدائی نہ ہوتی اور اسی طرح ابولہب سے بھی رشتہ نہ کرتے۔۱ معلوم ہوتا ہے یہ لفظ ’’صرف ‘‘ نہیں بلکہ ’’جب ‘‘ہے۔جو طباعت کی غلطی کی وجہ سے ’’صرف ‘‘ چھپ گیا ہے چنانچہ الحکم میں جب ہی لکھا ہے۔الحکم میں ہے۔’’ جب ایک دفعہ آنحضرتؐنے سرمنڈوایا تو آدھے سر کے کٹے ہوئے بال ایک شخص کو دے دیئے اور آدھے دوسرے حصّہ کے باقی اصحاب کو بانٹ دیئے۔‘‘ (الحکم جلد ۷ نمبر ۲۶ مورخہ ۱۷؍ جولائی ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۰ ) ۲ الحکم میں ہے۔’’ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات جبہ شریف دھو کر مریضوں کو بھی پلایا کرتے تھے۔‘‘ (الحکم جلد ۷ نمبر ۲۶ مورخہ ۱۷؍ جولائی ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۰ )