ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 192 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 192

کا مرتبہ رہ جاتا ہے کہ جسے کسی طرح ہم سبب کی طرف منسوب نہیں کرسکتے اور صرف خدا تعالیٰ کی (بقیہ حاشیہ)جو شخص اپنی حیثیت وتوفیق کے موافق اس سلسلہ کی چند پیسوں سے امداد نہیںکرتا اس سے اور کیا توقع ہوسکتی ہے اور اس سلسلہ کو اس کے وجود سے کیا فائدہ؟ ایک معمولی انسان بھی خواہ کتنی ہی شکستہ حالت کا کیوں نہ ہو جب بازار جاتا ہے تو اپنی قدرکے موافق اپنے لیے اور اپنے بچوں کے لیے کچھ نہ کچھ لاتا ہے تو پھر کیا یہ سلسلہ جو اپنی عظیم الشان اغراض کے لیے اللہ تعالیٰ نے قائم کیا ہے اس لائق بھی نہیں کہ وہ اس کے لیے چند پیسے بھی قربان کرسکے؟ دنیا میں آج کل کون سا سلسلہ ہوا ہے یا ہے جو خواہ دنیوی حیثیت سے ہے یاد ینی بغیر مال چل سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے دنیا میں ہر ایک کام اس لیے کہ عالم ِاسباب میں ہے اسباب سے ہی چلایا جاتا ہے پر کس قدربخیل ومُمسِک وہ شخص ہے کہ جو ایسے عالی مقصد کی کامیابی کے لیے ادنیٰ چیزمثل چند پیسے خرچ نہیں کرسکتا۔ایک وہ زمانہ تھا کہ الٰہی دین پرلوگ اپنی جانوں کو بھیڑ بکری کی طرح نثار کرتے تھے مالوں کا تو کیا ذکر، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک سے زیادہ دفعہ اپناکُل گھر بار نثار کیا حتی کہ سوئی تک کو بھی گھر میں نہ رکھا اور ایسا ہی حضرت عمرؓ نے اپنی بساط و انشراح کے موافق اور عثمانؓ نے اپنی طاقت وحیثیت کے موافق، علیٰ ہذاالقیاس علیٰ قدرمراتب تمام صحابہ اپنی جانوں اور مالوں سمیت اس دین الٰہی پر قربان کرنے کے لیے طیار ہوگئے۔ایک وہ ہیں کہ بیعت تو کر جاتے ہیں اور اقرار بھی کرجاتے ہیں کہ ہم دنیا پر دین کو مقدم کریں گے مگر مدد و امداد کے موقع پر اپنی جیبوں کو دبا کر پکڑ رکھتے ہیں۔بھلا ایسی محبت دنیا سے کوئی دینی مقصد پاسکتا ہے؟اور کیا ایسے لوگوں کا وجود کچھ بھی نفع رساں ہوسکتا ہے؟ ہرگز نہیں، ہرگز نہیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ(اٰل عـمران:۹۳) جب تک تم اپنی عزیز ترین اشیاء اللہ جلشانہٗ کے راہ میں خرچ نہ کرو تب تک تم نیکی کو نہیں پاسکتے۔اس وقت ہماری جماعت قریباً تین لاکھ کے ہے اگر ایک ایک پیسہ ہی اس سلسلہ کی امداد مثل لنگر ومدرسہ وغیرہ امداد میں دیں تو لاکھوں پیسے ہوسکتے ہیں۔قطرہ قطرہ بہم شود دریا ایک ایک بوند پانی سے دریا بن جاتا ہے تو کیا ایک ایک پیسہ سے ہزار ہاروپیہ نہیں بن سکتا اور کیا سلسلہ کی ضروریات پوری نہیں ہوسکتیں؟ اگر ایک شخص چارروٹیاں کھا تا ہے آدھی بھی اگر روٹی بچالے تو بھی اس عہد سے عہدہ برآہوسکتا ہے۔البتہ یہ بات بھی قرین قیاس ہے کہ اکثر لوگوں کو اب تک کہا بھی نہیں جاتا کہ ہمارے سلسلہ کے لیے کسی چندہ کی ضرورت تھی بہت سے لوگ رو رو کر بیعت کرکے جاتے ہیں۔اگر ان کو کہا جاوے تو ضرور وہ چندہ دیویں مگر ترغیب دینا ضروری ہے۔پس میں تم میں سے ہر ایک کو جو حاضر یا غائب ہے تاکید کرتا ہوں کہ اپنے بھائیوں کو چندہ سے باخبر کرو اور ہرایک کمزور بھائی کو بھی چندہ میں شامل کرو یہ موقع ہاتھ آنے کا نہیں۔کیسا یہ زمانہ برکت کا ہے کہ کسی سے جانیں مانگی نہیں