ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 10 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 10

کیا دیکھا تھا جو ان پر ایسے شیداہیں کہ ان کو خدا ہی بنا دیا ہے۔ایسے ان کی محبت میں اندھے ہوئے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کہ جن کا کلمہ پڑھتے ہیں ان کی توہین اپنی ہی زبان سے کرتے ہیں۔توہین کیا ہوتی ہے یہی کہ ایک شخص جس میں اعلیٰ درجہ کے اوصاف ہوں ان کو نظرانداز کرکے ایک ایسے شخص کو اس سے بڑھ چڑھ کر متّصف باَوصاف کیا جاوے جس میں وہ اوصاف نہیں ہیں۔تعزیرات میں توہین کی مثال کے نیچے یہ مثال لکھی ہے کہ ایک شخص کہے کہ زید اور بکر نے (جو درحقیقت چور تھے )چوری کی ہے مگر عمرو (جو ایک شریف آدمی ہے اور درحقیقت اس کی کوئی سازش اس چوری میں نہیں ) نے چوری نہیں کی اور نہ ہی اس کا اس میں کچھ تعلق ہے تو قانونـاً ایسا کہنے والا شخص عمرو کی توہین کرتا ہے اور وہ مجرم قرار دیا جاوے گا اور مستحقِ سزا ہوگا۔غرض تو ہین کے کئی پہلو ہوتے ہیں۔حضرت عیسیٰ کی اتنی تعریف کی جاتی ہے کہ گویا ان پر جب مصیبت آئی تو خدا کو زمین پران کے بچاؤ کی کوئی راہ نظر نہ آئی اور ان کو آسمان پر اور پھر بھی دوسرے آسمان پر جا چھپا یا۔با لمقابل آنحضر ت صلی اللہ علیہ وسلم پر جب سخت مصائب اور شدائد آئے تو اللہ تعالیٰ نے نعوذبا للہ بقول مولویوں کے آپ کو بالکل بے مدد اور کس مپرس چھوڑدیا اور آپ کو ایک غار میں جو آسمان کے مقابل میں جس طرح وہ بلند یہ اسفل میں واقعہ تھی، پناہ میں دی۔غار کی تعریف بھی کیا کہ بچھوؤں، سانپوں اور ہرقسم کے موذی حشرات الا رض کا گھر تھا۔بھلا اب سوچویہ توہین نہیں تو کیا ہے؟ پھر ہم دیکھتے ہیں کہ وہ سرورکا ئنا ت فخر الاولین والآخرین اشرف الخلق تو امید وارہیں کہ ہم لمبی عمر پاویں مگر ان کو تو صرف تریسٹھ سال کی عمر دی جاتی ہے اور ان کے مقابل میں حضر ت عیسیٰ گویا اب تک زندہ ہیں اور دوہزاربرس کی ان کی عمر ہو چکی اور ان کی حالت میں کوئی تغیّر واقع نہیں ہوا۔آپ رہتے تو دنیا کی اصلا ح کرتے جیسا کہ پہلا تجربہ بتا چکا ہے کہ ضرورہزاروں کی اصلا ح کرتے اگر اَور عمر پاتے۔مگر بالمقابل حضرت عیسیٰ اتنی عمر میں نہ کوئی نیکی کرتے ہیں، نہ نماز ہے، نہ روزہ، نہ زکوٰۃ اور نہ کسی کی اصلا ح ہے۔ان سے نہ کسی کو نفع ہے اور نہ وہ کسی سے کسی قسم کے ضرر کو دور کرسکتے ہیں