ملفوظات (جلد 5) — Page 9
تمام فیضوںکا سر چشمہ قرآن ہے، نہ انجیل نہ توریت۔جو قرآن کو چھوڑکر ان کی طرف جھکتا ہے وہ مرتد اور کافر ہے۔مگرجو قرآن کی طرف جھکتاہے وہ مسلمان ہے۔کیا ان لوگوں کو شرم نہیں آتی کہ آنحضرت کو جب حفاظت پیش آئی تو خدا نے آپ کو غار میں جگہ دی اور عیسٰیؑ کو جب وہ موقع پیش آیا تو آسمان پر جابٹھایا۔پھر آنحضرت کی عمر ۶۳ برس کی کہتے ہیں اور عیسٰیؑ کو اب تک زندہ مانتے ہیں۔ان تمام باتوںکا آخری نتیجہ یہ ہے کہ عیسائیوںکا دین غالب ہے۔آج مسلمان کم ہیں اور عیسائی زیادہ۔اس کی وجہ یہی ہے کہ یہی دلائل بیان کرکے پادریوںنے مسلمانوں کو عیسائی بنایا ہے۔خدا تو فرماتا ہے کہ عیسٰیؑ مَر گیا فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِيْ کی آیت موجود ہے۔اگر تمہارا مذہب قرآن ہے تو اس پر ایمان کیوںنہیں لاتے؟ آنحضرت کے واسطے خدا نے ہرگز نہ چاہا کہ باہر سے لوگ آویں۔سورہ نور میں بھی وعدہ ہے کہ تمام خلیفہ اور امام تیری اُمّت میں سے آویں گے سو خدا نے وہ پورا کیا اور اسی طرح اب ہمیں مامور کیا۔جیسے چودہ سو برس کے بعد موسیٰ کی امّت میں سے مسیح آیا تھا ویسے ہی چودہ سَو برس گذرنے کے بعد ہمیں بھیجا۔وہ مسیح بھی صاحب شریعت نہ تھے توریت پر ان کا عمل تھا ایسے ہی ہم ہیں تاکہ مماثلت پوری ہو اور کوئی کمی نہ رہ جاوے۔جیسی محبت خدا ہم سے کرتا ہے ویسی کسی اَور سے نہیں کرتا۔اگر یہ خیال ہو کہ عیسیٰ کو خدا آسمان پر لے گیا۔اس کو آج تک زندہ رکھا اور اس کو پھر لاوے گا تو پھر ساری محبت خدا کی عیسیٰ کے ساتھ چاہیے جو ان تمام باتوں کو غور سے دیکھے گا تو سمجھے گا کہ جو آپ کی شا ن ہے وہ اَور کسی نبی کی نہیں ہے جب تک تم آنحضرت کو ہر ایک خوبی میں افضل نہ جانوگے مسلمان نہ ہوگے بلکہ کرانی۱ ہوگے۔یہ تو عقیدہ چاہیے اور نمازوں میں دعا کرو کہ خدا طاعون سے ہمیں بچا جولوگ ہنسی کرتے ہیں اور کہتے ہیں بڑے آدمی کیوں نہیں مَرتے وہ نا دان ہیں۔خدا کا کام ہے آہستہ آہستہ پکڑنا۔اس لیے غافل نہ بنو۔تہجدوںمیں دعاکرو۔پانچوںوقت کی نمازوںمیں دعاکرو۔جب تمہارا گھر دعا سے بھر جاوے گا تو پھر ہرگزوَبانہ آوے گی اوراگر کوئی روک رکھو گے تو دعا کام نہ دے گی۔خدا کے ساتھ معاملہ صاف رکھو گے تو خدا کا وعدہ ہے کہ وہ تم کو ضرور محفو ظ رکھے گا۔۲ (دربارِ شام) حضرت عیسٰیؑ کی محبت میں غلو اور آنحضرتؐکی تو ہین بارہا ہمیں تعجب آتا ہے کہ کیوں یہ لوگ حضرت عیسیٰ سے بے جا محبت کرتے ہیں انہوںنے ان کا کیا دیکھا تھا جو ان پر ایسے شیداہیں کہ ان کو خدا ہی بنا دیا ہے۔ایسے ان کی محبت میں اندھے ہوئے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کہ جن کا کلمہ پڑھتے ہیں ان کی توہین اپنی ہی زبان سے کرتے ہیں۔توہین کیا ہوتی ہے یہی کہ ایک شخص جس میں اعلیٰ درجہ کے اوصاف ہوں ان کو نظرانداز کرکے ایک ایسے شخص کو اس سے بڑھ چڑھ کر متّصف باَوصاف کیا جاوے جس میں وہ اوصاف نہیں ہیں۔تعزیرات میں توہین کی مثال کے نیچے یہ مثال لکھی ہے کہ ایک شخص کہے کہ زید اور بکر نے (جو درحقیقت چور تھے )چوری کی ہے مگر عمرو (جو ایک شریف آدمی ہے اور درحقیقت اس کی کوئی سازش اس چوری میں نہیں ) نے چوری نہیں کی اور نہ ہی اس کا اس میں کچھ تعلق ہے تو قانونـاً ایسا کہنے والا شخص عمرو کی توہین کرتا ہے اور وہ مجرم قرار دیا جاوے گا اور مستحقِ سزا ہوگا۔۱(یعنی عیسائی۔مرتّب ) ۲ البدر جلد ۲نمبر۱۲ مورخہ ۱۰؍اپریل ۱۹۰۳ء صفحہ۹۱تا ۹۳