ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 11 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 11

نیز پرانا گذشتہ تجربہ بھی اس اَمر کا کافی شاہد تھا کہ صرف با رہ آدمی مدت کی کوشش سے طیار کئے۔آخر وہ بھی یوں الگ ہوئے کہ کسی نے لعنت کی اور کسی نے تیس روپے کے عوض دشمن کے ہاتھ میں دے دیا۔پھر مَرنے کے بعد جب آنحضرتؐکی روح آسمان پر گئی تو پھر وہ حریف موجود تھے کہ وہ تو آسمان میں مع جسم عنصری تشریف رکھتے ہیں اور جنابؐکا جسم ہزاروں من مٹی کے نیچے پڑا ہے اور پھر اسی پرختم نہیں۔آخرکا ر ان کی امت میں وہ پھر آویں گے اور چا لیس سال تک ان پر حکومت کریں گے اور ان سے بیعت لیں گے۔بھلا غور تو کرو کہ یہ توہین نہیں تو اَور کیا ہے۔پھر بات اور ہے کہ اللہ تعالیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قرآن شریف میں یہ وعدہ کرتا ہے کہ میں تیری اُمت میں سے تیری امت کی اصلا ح کے واسطے خلیفے بھیجتارہوں گا۔مگر آخر اس وعدہ کا ذرا بھی پاس نہ کیا اور ایک ایسی قوم میں سے جس کے متعلق اس نے وعدہ کر لیا ہوا تھا کہ اس قوم پر میرا غضب نازل ہو چکا ہے میں ان پر کبھی کوئی روحانی اور جسمانی فضل اور نعمت ہرگزنازل نہ کروں گا مگر آخر کار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی وعدہ خلا فی فرما کراسے بھیجا اور اپنے قانون کو بھی توڑا۔کیا یہ کوئی گوارا کرسکتا ہے کہ خدا پروعدہ خلافی عائد ہو۔ہرگز نہیں اِنَّ اللّٰهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيْعَادَ (اٰل عـمران:۱۰) ہماری تو یہ بھی سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ لوگ اسی عیسیٰ کو اتا ر کرکریں گے کیا؟ آخر ان کے قویٰ تو وہی ہوں گے جو پہلے تھے۔پہلے کیا کیا تھا جو اَب کرلیں گے۔ایک ذلیل سی معدودے چند ایک قوم تھی ان کی اصلا ح بھی نہ ہوئی۔لکھا ہے کہ ایک دفعہ ان سے پانسو آدمی مرتد ہو گئے تھے۔یہ لوگ اگر حضرت موسیٰ کے دوبا ر ہ آنے کی اُمید رکھتے تو کچھ موزوں بھی تھا کیونکہ وہ صاحبِ عظمت اور جبروت تو تھے ان میں شجا عت بھی تھی۔اب یہ عیسیٰ کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔پھر مشکل یہ ہے کہ عادت کا جانا محال ہے ان کو مارکھا نے اور بزدلی کی عادت ہوگئی ہوئی تھی وہ اگر دجال سے جنگ کریں گے تو کس طرح؟ادھر ان مسلمانوں کی بھی یہ عادت ہو گئی ہے کہ