ملفوظات (جلد 5) — Page 162
دیا کہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم اور والد صاحب کو السلام علیکم کہہ چھوڑنا۔راستہ میں مَیں نے اس مخالف سے پوچھا کہ آج جو ہم نے یہ عظیم الشان معجزہ دیکھا کیا اب بھی نہ مانوگے؟تواس نے جواب دیا کہ اب تو حد ہو گئی۔اب بھی نہ مانوں تو کب مانوں۔۔۔۔۔۔مُردہ زندہ ہو گیا ہے اس کے بعد الہام ہوا سَلِیْمٌ حَامِدٌ مُسْتَبْشِـرًا کچھ حصہ الہام کا یاد نہیں رہا۔والد کا زندہ ہونا یا کسی اور مُردہ کا زندہ ہوناکسی مُردہ اَمر کا زندہ ہونا ہے میں نے اس سے یہ بھی سمجھا کہ ہمارا کام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جلال ظاہر ہونے کا موجب اور والدین کے رفع درجات کا بھی موجب ہے۔شرطی طلاق فرمایا کہ اگر شرط ہو کہ فلاں بات ہو تو طلاق ہے اوروہ بات ہو جائے تو پھر واقعی طلاق ہوجاتی ہے جیسے کوئی شخص کہے کہ اگر فلاں پھل کھاؤں تو طلاق ہے اور پھر وہ پھل کھا لے تو طلاق ہو جاتی ہے۔۱ ۵؍جون ۱۹۰۳ء (مجلس قبل ازعشاء ) ایک رکعت میں قرآن ختم کرنا ذکر ہوا کہ ایک رکعت میں بعض لوگ قرآن کو ختم کرنا کمالات میں تصور کرتے ہیں اور ایسے حافظوں اور قاریوں کو اس اَمر کا بڑا فخر ہوتا ہے حضرت اقدس نے فرمایا کہ ۱ الحکم سے۔’’گناہ سچی توبہ سے دور ہوجاتا ہے۔سچی توبہ عصمت وحفاظت کا پاک جامہ پہناتی ہے ‘‘ (الحکم جلد ۷ نمبر ۲۳ مورخہ ۲۴ ؍جون۱۹۰۳ء صفحہ ۱۴ ) ۲ الحکم سے۔’’تاہر ایک غفلت و کسل سے اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے۔‘‘ (الحکم جلد ۷ نمبر ۲۳ مورخہ ۲۴ ؍جون۱۹۰۳ء صفحہ ۱۴ ) ۳ البدر جلد ۲ نمبر ۲۲ مورخہ ۱۹؍ جون۱۹۰۳ء صفحہ ۱۶۹ ۴ البدر جلد۲ نمبر۲۲ مورخہ ۱۹ ؍جون ۱۹۰۳ءصفحہ ۱۶۹