ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 161 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 161

والا اکیلا نہیں ہوتا۔۴ یکم، ۲، ۳؍جون ۱۹۰۳ء مقدمہ ہمیشہ سیدھا کرنا چاہیے ان تاریخوں میں کوئی بات قابلِ نوٹ نہیں ہے۔ایک بار مقدمات کے ذکر پر فرمایا کہ مقدمہ ہمیشہ سیدھا کرنا چاہیے جب معلوم ہو کہ ازروئے قانون بھی صاف طور پر ہمارا حق ثابت ہے اور ازروئے شریعت بھی تو ابتدا کرنی چاہیے ورنہ پیچ در پیچ بات ہو تو کبھی مقدمہ کی طرف نہ جانا چاہیے۔۱ ۴؍جون ۱۹۰۳ء (مجلس قبل ازعشاء) ایک رؤیا فرمایا۔دو یا تین بجے رات کو میں نے ایک خواب دیکھا کہ ایک جگہ پر مع چند ایک دوستوں کے گیا ہوں وہ دوست وہی ہیں جورات دن پاس رہتے ہیں ایک ان میں مخالف بھی معلوم ہوتا ہے اس کاسیاہ رنگ،لمباقد اور کپڑے چرکیں ہیں۔آگے جاتے ہوئے تین قبریں نظر آئی ہیں ایک قبر کو دیکھ کر میں نے خیال کیا کہ والد صاحب کی قبر ہے اور دوسری قبریں سامنے نظر آئیں میں ان کی طرف چلا اس قبرسے کچھ فاصلہ پر گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ صاحبِ قبر (جسے میں نے والد کی قبرسمجھا تھا ) زندہ ہو کر قبر پر بیٹھا ہوا ہے غور سے دیکھنے سے معلوم ہوا کہ اور شکل ہے والد صاحب کی شکل نہیں مگر خوب گورا رنگ، پتلابدن،فربہ چہرہ ہے میں نے سمجھا کہ اس قبر میں یہی تھا اتنے میں اس نے آگے ہاتھ بڑھا یا کہ مصافحہ کرے میں نے مصافحہ کیا اور نام پوچھا تواس نے کہا نظام الدین پھر ہم وہاں سے چلے آئے۔آتے ہوئے میں نے اسے پیغام