ملفوظات (جلد 5) — Page 163
یہ گناہ ہے اور ان لوگوں کی لاف زنی ہے جیسے دنیا کے پیشہ والے اپنے پیشہ پر فخر کرتے ہیں ویسے ہی یہ بھی کرتے ہیں۔آنحضرت نے اس طریق کو اختیار نہ کیا۔حالانکہ اگر آپ چاہتے تو کرسکتے تھے مگر آپ نے چھوٹی چھوٹی سورتوں پر اکتفا کی۔انعامات کی اُمّ پھر فرمایا کہ ہر ایک شَے کی ایک اُمّ ہوتی ہے میں نے سوچا کہ اللہ تعالیٰ کے جو انعامات ہیں ان کی اُمّ کیا ہے؟ خدا تعالیٰ نے میرے دل میں ڈالا کہ ان کی اُمّ اُدْعُوْنِيْٓ اَسْتَجِبْ لَكُمْ (المؤمن :۶۱) ہے کوئی انسان بدی سے بچ نہیں سکتا جب تک خدا تعالیٰ کا فضل نہ ہو پس اُدْعُوْنِيْٓ اَسْتَجِبْ لَكُمْ فرماکر یہ جتلا دینا کہ عاصم وہی ہے اسی کی طرف تم رجوع کرو۔استغفار کی حقیقت گناہ جو انسان سے صادر ہوتا ہے اگر انسان یقین سے توبہ کرے۱ تو خدا بخش دیتا ہے۔پیغمبر ِخدا جو ستر بار استغفار کرتے تھے حالانکہ ایک دفعہ کے استغفار سے گذشتہ گناہ معاف ہوسکتے تھے پس اس سے ثابت ہے کہ استغفار کے یہ معنے ہیں کہ خدا آئند ہ ہر ایک غفلت اور گناہ۲ کو دبائے رکھے اس کا صدور بالکل نہ ہو۔فَلَا تُزَكُّوْۤا اَنْفُسَكُمْ (النجم:۳۳) سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ معصوم اور محفوظ ہونا تمہارا کام نہیں ہے ۱ الحکم میں یہ مضمون یوں بیان ہوا ہے۔’’انبیاء کے ماننے کے مختلف طریق ہیں بعض ایسے اشخاص ہیں جو رؤیائے صادقہ کے ذریعے ایمان لاتے ہیں اور بعض دلائل عقلی و نقلی کے ذریعہ اور بعض پیغمبروں اور ماموروں کے اخلاقِ فاضلہ دیکھ کر۔الغرض ایمان لانے کے مختلف طریق ہیں مگر سب کو ایک ہی تنگ راہ سے گذارنا بہت ہی مشکل ہے۔بلکہ ہر ایک فردِ بشر کے الگ الگ مذاق کی رعایت رکھنا ضروری ہے۔‘‘ (الحکم جلد ۷ نمبر ۲۳ مورخہ ۲۴ ؍جون۱۹۰۳ء صفحہ ۱۴ ) ۲ الحکم سے۔’’بعض آپ کی جود و سخا دیکھ کر ہی ایمان لائے اور بعض اَور اَور محامدو محاسن مشاہدہ کرکے۔چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے وجود پاک میں تمام انبیاء علیہم السلام کے محامدوں کے جامع تھے جس کے سبب سے آپ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کہلائے اس لیے آپ پر ایمان لانیوالے بھی ہر ایک مختلف طور و طریق کو دیکھ کر آپ کے پیچھے ہولیے۔‘‘ (الحکم جلد ۷ نمبر ۲۳ مورخہ ۲۴ ؍جون۱۹۰۳ء صفحہ ۱۴ )