ملفوظات (جلد 5) — Page 137
ملک وشیطان کے وجود میں مجسم ہیں۔سعادت اس میں ہے کہ خدا تعالیٰ کی ہستی پر ایمان لایا جاوے اور اس کو حاضروناظر یقین کیا جاوے اور اس کی عین موجودگی کا تصوّر دل میں رکھ کر ہر ایک بدی اور ناراستی سے پرہیز کیا جاوے۔یہی بڑی دانش و حکمت ہے اور یہی معرفت ِالٰہی کا سیراب کرنے والا شیریں سوتہ ہے جس سے اور جس کے لیے اہل اللہ ایک ریگستان کے پیاسے کی طرح آگے بڑھ کر خوش مزگی سے پیتے ہیں اور یہی وہ آبِ کوثر ہے جو مولائے کریم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک ہاتھوں سے اپنے اولیاء اصفیا کو پلاتا ہے۔مومن چونکہ خدا تعالیٰ کی معرفت کا محتاج ہے اور ہر کوئی اس کی طرف نظر اُٹھائے دیکھ رہا ہے اس لیے خدا تعالیٰ نے بھی یہ دروازہ پورے طور پر کھولا ہوا ہے جوں جوں انسان اس راہ میں کوشش کرے گا توں توں درِ رحمت اس پر کھلتا جاوے گا۔دنیا میں بے انت ایسی چیزیں ہیں جس کی ہمیں خبر بھی نہیں پر ایسی چیزوںکے دریافت کے لئے سرگردان ہونا کون سی عقلمندی ہے۔۔۔۔۔کون سی چیز ہے جس کی تحقیق انسان نے پورے طور سے کر لی۔جوچیز اللہ جَلَّ شَانُہٗ نے انسان کے لیے چنداں مفید نہیں سمجھی وہ پورے طور پر انسان پر منکشف بھی نہیں ہوتی پس جو ہر ایک چیز کو دریافت کرنا چاہتا ہے وہ خدا بننا چاہتا ہے۔جس راہ پر انسان پہنچ نہیں سکتا چاہیے کہ اسے چھوڑ دے۔انسان کو جو کچھ دیا گیا ہے اس پر قانع رہے اگر یہ توقع رکھے کہ آسمان کے درخت کا پھل آوے تو میں کھاؤں حالانکہ اس کا ہاتھ وہاں پہنچ بھی نہیں سکتا تو وہ مجنون ہے ہاں جب اللہ تعالیٰ اس کی فطرت میں یہ قویٰ پیدا کر دے کہ آسمان تک پہنچ سکے توکچھ مضائقہ نہیں کہ وہ آسمان ہی کے پھل بھی کھاوے۔گناہ سے کیسے بچ سکتے ہیں گناہ سے انسان کیسے بچ سکتا ہے اس کا علاج یہ تو بالکل نہیں کہ عیسائیوں کی طرح ایک کے سر میں درد ہو تو دوسرا اپنے سر میں پتھر مار لے اور پہلے کا درد سر دور ہو جاوے دراصل انسان کا حدِاعتدال سے گزر جانا ہی گناہ کا