ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 138 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 138

موجب ہوتا ہے اور رفتہ رفتہ وہ بات پھر عادت میں داخل ہو جاتی ہے اور یہ سوال کہ یہ عادت کیوں کر دور ہوسکتی ہے؟ اکثر لوگوں کا اعتقاد ہے کہ یہ عادت دور نہیں ہوسکتی اور عیسائیوں کا تو پختہ یقین وایمان ہے کہ عادت یا فطرت ثانی ہرگز دور نہیں ہوسکتی اور نہ بدل سکتی ہے۔مسیح کے کفّارہ کو مان کر بھی یہ تو نہیں ہوسکتا ہے کہ انسان گناہ سے بالطبع نفرت کرنے لگ جائے۔نہیں البتہ اس کفّارہ کے طفیل اُخروی عذاب سے نجات پا جائے گا۔یہی اعتقاد ہے جو رکھنے سے انسان خلیع الرسن ہو کر بدکاریوں اور ناسزا وار اُمور میں دل کھول کر ترقی کرتا ہے۔قابلِ توجہ ہماری جماعت کو اس پر توجہ کرنی چاہیے کہ ذرا سا گناہ خواہ کیسا ہی صغیر ہ ہوجب گردن پر سوار ہو گیا تو رفتہ رفتہ انسان کو کبیرہ گناہوں کی طرف لے جاتا ہے۔طرح طرح کے عیوب مخفی رنگ میں انسان کے اندر ہی اندر ایسے رَچ جاتے ہیں کہ اس سے نجات مشکل ہو جاتی ہے۔فروتنی اور عاجزی انسان جو ایک عاجز مخلوق ہے اپنے تئیں شامتِ اعمال سے بڑا سمجھنے لگ جاتا ہے۔کبر اور رعونت اس میں آجاتی ہے اللہ کی راہ میں جب تک انسان اپنے آپ کو سب سے چھوٹا نہ سمجھے چھٹکارا نہیں پاسکتا۔کبیر نے سچ کہا ہے۔؎ بھلا ہوا ہم نیچ بھلے ہر کو کیا سلام جے ہوتے گھر اُونچ کے ملتا کہاں بھگوان یعنی اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ ہم چھوٹے گھر میں پیدا ہوئے۔اگر عالی خاندان میں پیدا ہوتے تو خدا نہ ملتا۔جب لوگ اپنی اعلیٰ ذات پر فخر کرتے تو کبیر اپنی ذات با فندہ۱ پر نظر کرکے شکر کرتا۔پس انسان کو چاہیے کہ ہر دم اپنے آپ کو دیکھے کہ میں کیسا ہیچ ہوں میری کیا ہستی ہے ہر ایک انسان خواہ کتنا ۱ البدر میں ہے۔’’ جب لوگ اپنی اپنی ذات پر فخر کرتے تو کبیر اپنی قوم چمار پر نظر کرکے شکر کرتا۔‘‘ (البدر جلد ۲ نمبر۱۸مورخہ ۲۲؍مئی ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۴۰) ۲ اس کے آگے البدر میں مزید لکھا ہے۔’’ اور قوتیں توانسان کی کبھی کبھی غلبہ کرتی ہیں مگر رعونت اور نخوت ہر وقت اس پر سوا ر ہے۔‘‘ (البدر جلد ۲ نمبر ۱۸ مورخہ ۲۲؍مئی ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۴۰)