ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 136 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 136

غلبہ ہو جاتا ہے اور باطل کی شکست۔مجہول الکنہ اشیاء چار چیزیں ہیں جن کی کنہ وراز کو معلوم کرنا انسان کی طاقت سے بالا تر ہے۔اوّل اللہ جَلَّ شَانُہٗ،دوم روح،سوم ملائکہ، چہارم ابلیس۔جو شخص ان چہاروں میں سے خدا تعالیٰ کے وجود کا قائل ہے اور اس کی صفاتِ الوہیت پر ایمان رکھتا ہے ضرور ہے کہ وہ ہر سہ اشیاء رُوح و ملائکہ و ابلیس پر ایمان لائے مثلاً رُوح جیسے انسان کے اندر داخل ہوتی معلوم نہیں ہوتی ویسے ہی اس میں سے خارج ہوتی بھی معلوم نہیں۲ ہوتی۔انسان کو ہر حال میں رضاء الٰہی پر چلنا چاہیے اور کار خانہ الٰہی میں دخل در معقولات نہیں دینا چاہیے۔تقویٰ اور طہارت، اطاعت ووفا میں ترقی کرنی چاہیے اور یہ سب باتیں تب ممکن ہیں جب انسان کامل ایمان اور یقین سے ثابت قدم رہے اور صدق واخلاص اپنے مولا کریم سے دکھلائے اور وہ باتیں جو علم الٰہی میں مخفی ہیں اس کے کنہ کے معلوم کرنے میں بے سُود کوشش نہ کرے۱ مثلاًہلیلہ قبض کو دور کرتی ہے اور سم الفار ہلاک کرتا ہے اب کیا ضرورت پڑی ہے کہ بے فائدہ اس دھت میں بھاگے پھرے کہ کون سی شَے ہے جو یہ اثر کرتی ہے۔طبیب کا کام ہے کہ ان کے خواص کو معلوم کرے اور یہ سوال کہ کیوں یہ خواص پیدا ہو گئے حوالہ بخدا کرے جو شخص ہر ایک چیز کے خواص وماہیت دریافت کرنے کے پیچھے لگ جاتا ہے وہ نادانی سے کارخانہ ربّی اور اس کے منشا سے بالکل ناواقف ونابلد ہے۔ملائکہ اور شیطان اگر کوئی کہے کہ شیطان وملائکہ دکھلاؤ تو کہنا چاہیے کہ تمہارے اندر یہ خواص کہ بیٹھے بٹھائے آناً فاناًبدی کی طرف متوجہ ہو جانا یہاں تک کہ خدا تعالیٰ کی ذات سے بھی منکر ہو جانا اور کبھی نیکی میں ترقی کرنا اور انتہا درجہ کی انکساری و فروتنی وعجز ونیاز میں گِر جانا یہ اندرونی کششیں جو تمہارے اندر موجود ہیں ان سب کے محرک جو قویٰ ہیں وہ ان دوالفاظ ۱ البدر سے۔’’ انسان کو ان باتوں کی کنہ دریافت کر نے میں نہ پڑنا چاہیے تقویٰ اور اطاعت میں ترقی کر نی چاہیے تواس طرح خدا خود اس کی تسلی کردے گا۔‘‘ (البدر جلد ۲ نمبر ۱۸ مورخہ ۲۲؍ مئی ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۴۰)