ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 123 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 123

گیا تو کہا کہ خدا قادر ہے خواہ آسمان سے نشان دکھلاوے یا بعض کو بعض سے جنگ کرا کر نشان دکھاوے۔۲ چنانچہ جنگوں میں صحابہؓ بھی قتل ہوئے بعض کمزور ایمان والوں نے اعتراض کیا کہ اگر یہ عذاب ہے تو ہم میں سے لوگ کیوں مَرتے ہیں اس پر خدا نے فرمایا اِنْ يَّمْسَسْكُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِّثْلُهٗ١ؕ وَ تِلْكَ الْاَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ الـخ( اٰل عـمران:۱۴۱) پس اگر ہماری جماعت میں سے کوئی بھی نہ مَرے اور کل قومیں مَرتی رہیں تو کل دنیا ایک ہی دفعہ راہ راست پر آجاوے اوربجز اسلام کے اور کوئی مذہب دنیا پر نہ رہے حتی کہ گو رنمنٹوں کو بھی مسلمان ہونا پڑے۔۱ اور یہی سِر تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہؓ بھی فوت ہوئے تھے۔ہاں سلا متی کا حصہ نسبتاً ہماری طرف زیادہ رہے گا براہین احمدیہ میں بھی لکھا ہے اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ يَلْبِسُوْۤا اِيْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ اب خدا جانے کہ کون ظلم سے خالی ہے کسل اور غفلت بھی ظلم ہے مگر تاہم دعا کرنا ضروری ہے اس جماعت کا قطعاً محفوظ رہنا یہ الفاظ کہیں ہم نے نہیں لکھے اور نہ یہ سنّت اللہ ہے اگر ایسا ہو تو پھر تو اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ ہو جاتا ہے جب سے انبیاء پیدا ہوئے ہیں ایسا کبھی نہیں ہوا احمقوں کوان بھیدوں کی خبر نہیں خدا کا وعدہ نسبتاً حفاظت کا ہے نہ کہ کلیۃً۲ پھر یہ بھی دیکھ لینا چاہیے کہ اگر ہماری جماعت کا ایک مَرتا ہے تو اس کے بد لے تین سَو آجاتے ہیں۔انجام ہمیشہ متقیوں کے واسطے ہی ہوتا ہے اگر خدا تعالیٰ ایسا کھلاکھلا فرق کر دیوے تو میں نہیں جانتا کہ مذہبی اختلاف ایک ذرّہ بھر ۱ الحکم میں مزیدلکھا ہے۔’’ اور بجز اسلام کے اور کوئی مذہب ہی نہ رہے حالانکہ ایسا نہیں ہو گا۔دوسرے مذاہب بھی قیامت تک باقی رہیں گے۔خدا تعالیٰ نشانوں میں قیامت کا نمونہ دکھا نا نہیں چاہتا اور نہ کبھی ایسا ہوا بلکہ اُن میں کسی حد تک فنا ضرور ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ صحابہ ؓ میں سے بھی بعض ان جنگوں میں شہید ہوئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی تکلیف پہنچی لیکن انجام نے دکھایا کہ آنحضرتؐکا نشان کیسا عظیم الشان تھا۔اسی طرح پر یہاں بھی ہے۔‘‘ (الحکم جلد ۷ نمبر ۱۹ مورخہ ۲۴ ؍مئی ۱۹۰۳ء صفحہ ۹ ) ۲ الحکم سے۔’’ اس لیے دُعا کرتے رہنا چاہیے کیونکہ بالکلیہ حفاظت کا وعدہ کہیں نہیں ہے بلکہ الہامات میں استثنا کے الفاظ قریباً موجود ہیں اس جماعت کے قطعاً محفوظ رہنے کا وعدہ نہیں بلکہ نسبتاًہے اور سنّت اللہ بھی یہی ہے۔دیکھنا یہ چاہیے کہ طاعون سے کون گھٹتا اور کون بڑھتا ہے۔‘‘ (الحکم جلد ۷ نمبر ۱۹ مورخہ ۲۴ ؍مئی ۱۹۰۳ء صفحہ ۹ )