ملفوظات (جلد 5) — Page 122
میں نکلا ہے۔اس پر حضرت اقدسؑ نے فرمایاکہ اس سے بڑھ کر کیا بے ادبی ہو گی کہ قرآن شریف کی آیا ت کو جوکہ ہر ایک پہلو اور ہر ایک رنگ کیا بلحاظ ظاہر اور کیا بلحاظ باطن کے معجزہ ہے۔تُک بندی کہا جاتا ہے۔جیسے قرآن شریف کا باطن معجزہ ہے ویسے اس کے ظاہر الفاظ اور ترتیب بھی معجزانہ ہے۔اگر ہم اس کے ظاہر کو معجزہ نہ مانیں تو پھر باطن کے معجزہ ہونے کی دلیل کیا ہو گی؟ ایک انسان کا اگر ظاہر ہی گندہ ناپاک اور خبیث ہوگا تو اس کی رُوحانی حالت کیسے اچھی ہوسکتی ہے؟ عوام الناس اور موٹی نظر والوں کے واسطے تو ظاہری خوبی ہی معجزہ ہوسکتی ہے اور چونکہ قرآن ہر ایک قسم کے طبقہ کے لوگوں کے واسطے ہے اس لیے ہر ایک رنگ میں یہ معجزہ ہے۔مامور من اللہ کی عداوت کا نتیجہ کفر تک پہنچا دیتا ہے۔۱ ۹؍مئی ۱۹۰۳ء (بوقتِ سیر ) وباکے علاقے سے نکلنا عام لوگوں کا خیال ہے کہ وبا سے بھاگنا نہ چاہیے یہ لوگ غلطی کرتے ہیں۔آنحضرتؐنے فرمایا ہے کہ اگر وبا کا ابتدا ہو تو بھاگ جانا چاہیے اور اگر کثرت سے ہو تو پھر نہیں بھاگنا چاہیے۔جس جگہ وبا ابھی شروع نہیں ہوئی تب تلک اس حصہ والے اس کے اثر سے محفوظ ہوتے ہیں اور ان کا اختیار ہوتا ہے کہ اس سے الگ ہو جاویں اور توبہ اور استغفار سے کام لیویں۔جماعت ِاحمدیہ اور طاعون یہ اللہ تعالیٰ کی سنّت ہے کہ نشان بھی ہوتے ہیں اور ان میں التباس بھی ہوتا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے معجزہ مانگا ۱البدر جلد ۲نمبر۱۸ مورخہ ۲۲؍مئی ۱۹۰۳ء صفحہ۱۳۷، ۱۳۸ ۲ الحکم میں مزیدلکھا ہے۔’’آخر جولڑائیا ں ہوئیں وہ بھی تو نشان ہی تھے اور وہ منکروں اور کافروں کے لئے عذاب لیکن اب سوال یہ ہے کہ صحابہ ؓ میں سے کوئی بھی ان لڑائیوں میں نہیں مارا گیا؟ ‘‘ (الحکم جلد ۷ نمبر ۱۹ مورخہ ۲۴ ؍مئی ۱۹۰۳ء صفحہ ۹ )