ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 124 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 124

بھی رہ جاوے حالانکہ اس اختلاف کا قیامت تک ہونا ضروری ہے۔بعض لوگ ہماری جماعت میں سے بھی غلطی سے کہہ دیتے ہیں کہ ہم میں سے کوئی نہ مَرے گا یہ ان کو مغالطہ لگا ہے ایسا ہرگز ہو نہیں سکتا اگرچہ ایک حد تک خدا نے وعدے کئے ہوئے ہیں مگر ان کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ جماعت سے مطلقاً کوئی بھی نشانہ طاعون نہ ہو۔یہ بات ہماری جماعت کو خوب یادرکھنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ہرگز نہیں ہے کہ تم میں سے کوئی بھی نہ مَرے گا۔ہاں خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَاَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُثُ فِي الْاَرْضِ (الرعد:۱۸) پس جو شخص اپنے وجود کو نا فع الناس بناویں گے ان کی عمریں خدا زیادہ کرے گا خدا تعالیٰ کی مخلوق پر شفقت بہت کرو اور حقوق العباد کی بجاآوری پورے طور پر بجالانی چاہیے۔نوحؑ اور مسیح موعود کے حالات کا فرق اعتراض ہوا کہ نوحؑ کی کشتی میں چڑھنے والے سب کے سب طوفان سے محفوظ رہے تھے تو کیا وجہ ہے جو لوگ یہاں بیعت میں ہیں وہ محفوظ نہ رہیں۔جواب۔فرمایا کہ ہمارا سلسلہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سلسلہ کے قدم برقدم ہے نوحؑ کے وقت ایمان کا دروازہ بند ہو چکا تھا اور اس وقت کوئی التباس ایمان کا نہ تھا مگر اب ہے نوحؑ کے وقت یہ فیصلہ ہو چکا تھا کہ اب قوم تو ضرور ہلاک ہونے والی ہے خواہ ایمان لاوے خواہ نہ لاوے مگر آنحضرت کے وقت مہلت دی گئی کہ جو توبہ کرے گا وہ بچ جاوے گا۔چنا نچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عین قتل کے وقت فرمایا کہ اگر کوئی ایمان لاوے تو تلوار روک لی جاوے مگر نوحؑ کی قوم کے واسطے تھا کہ صرف کشتی والے بچائے جاویں گے باقی سب تباہ اور ہلاک ہوں گے وہ صورت خاص اور الگ تھی اور اعتراض تو خود نوحؑ پر بھی تھا کہ اس نے کہا تھا کہ میرے اہل بچے رہیں گے مگر پھر بھی مخالفوں کو یہ کہنے کی گنجائش رہی کہ نوحؑ اپنے بیٹے کو نہ بچا سکا۔معلوم ہوتا ہے کہ نوحؑ کو بھی شبہ پیدا ہوا تھا تب ہی تو ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے زجر ہوا۔پھر دیکھو باوجود نبی ہونے کے ان کو دھوکا لگا اور یہ معاملہ اس