ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 119 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 119

توفّی تو فی کا لفظ صرف انسانوں پر ہی آیا ہے دیگر حیوا نات پر استعمال نہیں ہوا اس کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت دہریہ طبع لوگ بھی تھے جو کہ حشر ونشر کے قائل نہ تھے ان کا اعتقاد تھا کہ کوئی شَے انسان کی باقی نہیں رہتی اس لفظ کو استعمال کرکے اللہ تعالیٰ نے بتلا دیا کہ روح کو ہم اپنی طرف قبض کر لیتے ہیں وہ باقی رہتی ہے قرآن اور حدیث میں جہاں کہیں یہ لفظ آیا وہاں معنے قبض روح کے ہیں اس کے سوا اور کوئی معنے نہیں ہوتے۔۱ تحصیل حاصل؟ سوال۔جب ایک شخص نے ایک بات تحصیل کی ہے تو دوبارہ اسی کے تحصیل کرنے سے کیا حاصل ہے؟ جواب۔ہم اس اصول کو لَا نُسْلِمُ کہتے ہیں یہ ٹھیک نہیں ہے قرآن میں لکھا ہے۔اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ١ؕ قَالُوْا بَلٰى (الاعراف:۱۷۳) یعنی جب روحوں سے خدا نے سوال کیا کہ میں تمہارا ربّ نہیں ہوں؟ تو وہ بولیں کہ ہاں! تواب سوال ہوسکتا ہے کہ روحوں کو علم تو تھا پھر انبیاء کو خدا نے کیوں بھیجا گویا تحصیل حاصل کرائی یہ اصل میں غلط ہے ایک تحصیل پھیکی ہوتی ہے ایک گا ڑھی ہوتی ہے دونوں میں فرق ہوتا ہے وہ علم جو کہ نبیوں سے ملتا ہے اس کی تین اقسام ہیں۔علم الیقین، عین الیقین، حق الیقین اس کی مثال یہ ہے جیسے ایک شخص دور سے دھواں دیکھے تو اسے علم ہوگا کہ وہاں آگ ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ جہاں آگ ہوتی ہے وہاں دھواں بھی ہوتا ہے اور ہر ایک دوسرے کے لیے لازم ملزوم ہیں۔یہ بھی ایک قسم کا علم ہے جس کا نام علم الیقین ہے مگر اور نز دیک جا کر وہ اس آگ کو آنکھوں سے دیکھ لیتا ہے تو اسے عین الیقین کہتے ہیں۔پھر اگر اپنا ہاتھ اس آگ پر رکھ کر اس کی حرارت وغیرہ کو بھی