ملفوظات (جلد 5) — Page 120
دیکھ لیوے تو اسے کوئی شبہ اس کے بارے میں نہ رہے گا اورا س طرح سے جو علم اسے حا صل ہوگا اس کا نام حق الیقین ہوگا۔اب کیا ہم اسے تحصیل حا صل کہہ سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں! ۲،۳ (دربارِ شام) نزولِ وحی کا طریق فرمایا کہ وحی کا قاعدہ ہے کہ ا جمالی رنگ میں نازل ہوا کرتی ہے اور اس کے ساتھ ایک تفہیم ہوتی ہے مثلاًجب آنحضرتؐکو نماز پڑھنے کا حکم ہوا ہے تو ساتھ کشفی رنگ میں نماز کا طریق اس کی رکعات کی تعداد، اوقات نماز وغیرہ کشفی رنگ میں بتا دیا گیا تھا۔علیٰ ہذ االقیاس۔جو اصطلاح اللہ تعالیٰ فر ماتا ہے اس کی تفصیل اور تشریح کشفی رنگ میں ساتھ ہوتی ہے جن لوگوں کو وہ اس وحی کے منشا سے آگا ہ کرتا ہے اور اس کو دوسرں کے دلوں میں داخل کرتا ہے جب سے دنیا ہے وحی کا یہی طرز چلا آیا ہے اور کل انبیاء کی وحی اسی رنگ کی تھی۔وحی کشفی تصویروں یا تفہیم کے سوا کبھی نہیں ہوئی اور نہ وہ اجمال بجز اس کے کسی کی سمجھ میں آسکتا ہے۔۱ مُدّ میں پیشگوئی کے مطابق تباہی مُدّ سے خبر آئی ہے کہ اس جگہ آبادی کچھ اُوپر دوسو آدمی کی ہے اور اب تک ایک سوتین آدمی مَر چکے ہیںاور ابھی چار پانچ روز مَرتے ہیں۔اس پر حضرت اقدس نے حکم دیا ہے کہ اخباروں میں مُدّ کے متعلق پیشگوئی مندرجہ قصیدہ اعجاز احمدیہ کو شائع کرکے دکھائیں اور مولوی ثناء اللہ وغیرہ کو آگا ہ کریں کہ وہی الفاظ جن پر وہ مقدمہ بنوانا چاہتا تھا خدا تعالیٰ اب پوری کر رہا ہے۔اب لوگ سو چیں کہ وہ حق تھا یا نہیں۔۲ ۱ البدر سے۔’’جب سے دنیا شروع ہے وحی سوائے کشفی حالت کے ہوتی ہی نہیں ہے۔ورنہ پھر یہ اعتراض ہو گا کہ کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خائن تھے یا اپنی طرف سے بناکر بتلا دیا کرتے تھے؟ بلکہ جس طرح خدا تعالیٰ ان کے دل میں ڈالتا تھا وہ دوسرے کے دل میں ڈال دیتے۔‘‘ (البدر جلد ۲نمبر۱۸ مورخہ ۲۲؍مئی ۱۹۰۳ء صفحہ۱۳۷ ) ۲ الحکم جلد۷نمبر۱۸ مورخہ ۱۷؍مئی ۱۹۰۳ء صفحہ۲