ملفوظات (جلد 5) — Page 118
ملاکرتی اس لیے ہمیشہ دعا کرنی چاہیے کہ خدا اسے قبول کرنے کی توفیق عطا کرے۔۱ ۶؍مئی۱ ۱۹۰۳ء (بوقتِ سیر) پیشگوئیوں میں ہمیشہ استعارات ہوتے ہیں نووارد صاحب نے دریافت کیا کہ گھنگھرو والے بالوں سے کیا مُراد ہے؟ فرمایا کہ احادیث ایک ظنّی شَے ہے یہ ہرگز ثابت نہیں ہے کہ جو آنحضرتؐکے منہ سے نکلا ہو وہی ضبط ہوا ہو معلوم نہیں کہ اصل لفظ کیا ہو پیشگو ئیوں میں ہمیشہ استعارات ہوتے ہیں اور پھر یہ بھی یادرکھنا چاہیے کہ جب خبروں میں کوئی ایسی خبر موجود ہو جو ثابت شدہ واقعہ کے برخلاف ہو تواسے بہرحال ردّ کرنا پڑے گا۔اس وقت جو فتنہ موجود ہے تم اس کی نظیر کسی زمانہ سابقہ میں دکھاؤ کہ کبھی ہوا ہے؟ پھر سب سے بڑا فتنہ تو یہ ہے اور ادھر دجّال کا فتنہ بڑا رکھا گیا ہے اور دجّال کے معنے بھی لغت سے معلوم ہو گئے تواب شک کی کون سی جگہ باقی رہ گئی ہے؟ پھر ہم کہتے ہیں کہ اگر استعارات صرف دجّال کے معاملہ میں ہوتے اور کسی جگہ نہ ہوتے تو بھی کسی کو کلام ہوتا کہ تم کیوں تاویل کرتے ہو مگر دیکھنے سے پتا لگتا ہے کہ خود قرآن شریف اور نیز احادیث بھی استعارات سے بھرے پڑے ہیں اور نہ اس اَمر کی ضرورت تھی کہ ہر ایک استعا رہ کی حقیقت کھولی جاوے کیا آج تک دنیا کے سب امور کسی نے جان لیے ہیں جواس اَمر پر زور دیا جاتا ہے کہ ایک ایک لفظ کی حقیقت بتلاؤ۔دستور ہے کہ موٹے موٹے امور کو انسان سمجھ کر باقی کواسی پر قیاس کر لیتا ہے