ملفوظات (جلد 5) — Page 103
شرک و بدعت کا کوئی حصہ ہوتا ہے تو اس کی دعائوں اور عبادتوں کو اُس کے منہ پر اُلٹا مارتا ہے اور اگر دیکھتا ہے کہ اس کا دل ہر قسم کی نفسانی اغراض اور ظلمت سے پاک صاف ہے تو اس کے واسطے رحمت کے دروازے کھولتا ہے اور اسے اپنے سایہ میں لے کر اُس کی پرورش کا خود ذمہ لیتا ہے۔اس سلسلہ کو اللہ تعالیٰ نے خود اپنے ہاتھ سے قائم کیا ہے اور اس پر بھی ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے لوگ آتے ہیں اور وہ صاحب اغراض ہوتے ہیں۔اگر اغراض پورے ہوگئے تو خیر ورنہ کدھر کا دین اور کدھر کا ایمان۔۱ لیکن اگر اس کے مقابلہ میں صحابہ ؓ کی زندگی میں نظر کی جاوے تو ان میں ایک بھی ایسا واقعہ نہیں آتا انہوں نے کبھی ایسا نہیں کیا۔ہماری بیعت تو بیعت توبہ ہی ہے لیکن ان لوگوں کی بیعت تو سر کٹانے کی بیعت تھی۔ایک طرف بیعت کرتے تھے اور دوسری طرف اپنے سارے مال و متاع، عزّت وآبرو اور جان و مال سے دست کش ہوجاتے تھے گویا کسی چیز کے بھی مالک نہیں ہیں اور اس طرح پر ان کی کل امیدیں دنیا سے منقطع ہوجاتی تھیں۔ہر قسم کی عزّت و عظمت اور جاہ و حشمت کے حصول کے ارادے ختم ہوجاتے تھے۔کس کو یہ خیال تھا کہ ہم بادشاہ بنیں گے یا کسی ملک کے فاتح ہوں گے۔یہ باتیں ان کے وہم و خیال میں بھی نہ تھیں بلکہ وہ تو ہر قسم کی امیدوں سے الگ ہوجاتے تھے اور ہر وقت خدا تعالیٰ کی راہ میں ہر دکھ اور مصیبت کو لذّت کے ساتھ برداشت کرنے کو تیار ہو جاتے تھے یہاں تک کہ جان تک دے دینے کو آمادہ رہتے تھے، ان کی اپنی تو یہی حالت تھی کہ وہ اس دنیا سے بالکل الگ اور منقطع تھے۔لیکن یہ الگ اَمر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنی عنایت کی اور ان کو نوازا اور ان کو جنہوں نے اس راہ میں اپنا سب کچھ قربان کردیاتھا اس کو ہزار چند کر دیا۔۱ البدرمیںہے۔’’اغراضِ نفسانی شرک ہوتے ہیں وہ قلب پر حجاب لاتے ہیں۔اگر انسان نے بیعت بھی کی ہوئی ہوتو پھر بھی اس کے لیے یہ ٹھوکر کا باعث ہوتے ہیں۔ہمارا سلسلہ تو یہ ہے کہ انسان نفسانیت کو ترک کرکے توحید خالص پر قدم مارے، سچی طلب حق کی ہو ورنہ جب وہ اصل مطلوب میں فرق آتا دیکھے گا تواُسی وقت الگ ہوجاوے گا۔کیا صحابہ کرام ؓ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی واسطے قبول کیا تھا کہ مال ودولت میں ترقی ہو۔‘‘ (البدر جلد۲نمبر ۱۶مورخہ ۸؍مئی۱۹۰۳ء صفحہ ۱۲۳)