ملفوظات (جلد 5) — Page 102
جن ایام میں شناخت کے آثار نہ تھے تو ذاتی نقصان اپنا یہ کیا کہ نور کو کھو بیٹھے اور اس وقت یہ اَمر مخفی اور مستور تھاتوریویو لکھے اور رائے ظاہر کی اب یہ وقت آیا تھا کہ وہ اپنے ریویو پر فخر کرتا کہ دیکھو جو باتیں میں نے اوّل کہی تھیں وہ آج پوری ہو رہی ہیں اور میری اس فراست کے شواہد پیدا ہو گئے ہیں مگر افسوس کہ اب وہ اپنی فراست کے خود ہی دشمن ہو گئے ہم نے کون سی بات نئی کی ہے جس حکم کے وہ لوگ منتظر ہیں بھلا ہم پوچھتے ہیں کیا اس نے آکر ہر ایک رطب ویا بس کو قبول کر لینا ہے اور وہ وحی کی پیروی کرے گا یاکہ ان مختلف مو لو یوں کی؟ اگر اس نے آکر انہی کی ساری باتیں قبول کر لینی ہیں تو پھر اس کا وجود بیہودہ ہے۔۱ (دربارِشام) دعا کے جواب میں ایک الہام فرمایا۔آج ہم نے عام طور پر بہت سے بیماروں کے لیے دعا کی تھی جس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہام ہوا کہ ’’آثار صحت‘‘ یہ نہیں معلوم کہ کس شخص کے متعلق ہے دعا عام تھی۔ہدایت مجاہدہ اور تقویٰ پر منحصر ہے فرمایا کہ جو شخص محض اللہ تعالیٰ سے ڈر کر اس کی راہ کی تلاش میں کوشش کرتا ہے اور اس سے اس اَمر کی گرہ کشائی کے لیے دعائیں کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے قانون کے موافق (وَالَّذِيْنَ جَاهَدُوْا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا (العنکبوت:۷۰)یعنی جو لوگ ہم میں ہو کر کوشش کرتے ہیں ہم اپنی راہیں ان کو دکھا دیتے ہیں) خود ہاتھ پکڑ کر راہ دکھا دیتا ہے اور اسے اطمینانِ قلب عطا کرتا ہے اور اگر خود دل ظلمت کدہ اور زبان دعا سے بوجھل ہو اور اعتقاد شرک وبدعت سے ملوث ہو تو وہ دعا ہی کیا ہے اور وہ طلب ہی کیا ہے جس پر نتائج حسنہ مترتّب (نہ) ہوں۔جب تک انسان پاک دل اورصدق و خلوص سے تمام ناجائز رستوں اور اُمیدوں کے دروازوں کو اپنے اوپر بند کرکے خدا تعالیٰ ہی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتا اس وقت تک وہ اس قابل نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ کی نصرت اورتائید اسے ملے لیکن جب وہ اللہ تعالیٰ ہی کے دروازہ پر گرتا اور اسی سے دعا کرتا ہے تو اس کی یہ حالت جاذبِ نصرت اور رحمت ہوتی ہے۔خدا تعالیٰ آسمان سے انسان کے دل کے کونوں میں جھانکتا ہے اور اگر کسی کونے میں بھی کسی قسم کی ظلمت یا شرک و بدعت کا کوئی حصہ ہوتا ہے تو اس کی دعائوں اور عبادتوں کو اُس کے منہ پر اُلٹا مارتا ہے اور اگر دیکھتا ہے کہ اس کا دل ہر قسم کی نفسانی اغراض اور ظلمت سے پاک صاف ہے تو اس کے واسطے رحمت کے دروازے کھولتا ہے اور اسے اپنے سایہ میں لے کر اُس کی پرورش کا خود ذمہ لیتا ہے۔