ملفوظات (جلد 5) — Page 104
صحابہؓ کی مثالی زندگی دیکھئے حضرت ابو بکررضی اللہ عنہ نے اپنا سارا مال ومتاع خدا کی راہ میں دے دیا اور آپ کمبل پہن لیاتھا مگر اللہ تعالیٰ نے اس پر انہیں کیا دیا تمام عرب کا انہیں بادشاہ بنا دیا اور اسی کے ہاتھ سے اسلام کو نئے سرے زندہ کیا اور مرتدعرب کو پھر فتح کرکے دکھا دیا اور وہ کچھ دیا جو کسی کے وہم وگمان میں بھی نہ تھا غرض ان لوگوں کے صدق ووفا اور اخلاص ومروّت ہر مسلمان کے لیے قابل اسوہ ہے۔صحابہؓ کی زندگی ایک ایسی زندگی تھی کہ تمام نبیوں میں سے کسی نبی کی زندگی میں یہ مثال نہیں پائی جاتی اور آپ ؐکے صحابہؓ کے مقابلہ میں حضرت مسیحؑ کے حواری تو بہت ہی گری ہوئی حالت میں نظر آتے ہیں ان میں وہ جوش، صدق ووفا جو ایک مرید کو اپنے مر شد کے لیے ہونا چاہیے پایا ہی نہیں جاتا بلکہ مصیبت کے وقت سب کے سب بھاگ گئے اور جو پاس رہ گیا اس نے لعنت بھیجنی شروع کر دی۔اصل بات یہ ہے کہ جب تک انسان اپنی خواہشوں اور اغراض سے الگ ہو کر خدا تعالیٰ کے حضور نہیں آتا ہے وہ کچھ حاصل نہیں کرتا بلکہ اپنا نقصا ن کرتا ہے لیکن جب وہ تمام نفسانی خواہشات اور اغراض سے الگ ہو جاوے اور خالی ہاتھ اور صافی قلب لے کر خدا کے حضور جاوے تو خدا اس کو دیتا ہے اور خدا اس کی دستگیری کرتا ہے۔مگر شرط یہی ہے کہ انسان مَرنے کو تیار ہو جاوے اور اس کی راہ میں ذلّت اور موت کو خیر باد کہنے والا بن جاوے۔اہل صدق ووفا کے لیے قبولیت وعظمت دیکھو دنیا ایک فانی چیز ہے مگر اس کی لذّت بھی اسی کو ملتی ہے جواس کو خدا کے واسطے چھوڑتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ جو شخص خدا تعالیٰ کا مقرب ہوتا ہے خدا تعالیٰ دنیا میں اس کے لیے قبولیت کو پھیلا دیتا ہے یہ وہی قبولیت ہے جس کے لئے دنیادار ہزاروں کوششیں کرتے ہیں کہ کسی طرح کوئی خطاب مل جاوے یا کسی عزّت کی جگہ یا دربار میں کر سی ملے اور کر سی نشینوں میں نام لکھا جاوے۔غرض تمام دنیوی عزّتیں اسی کو د ی جاتی ہیں اور ہر دل میں اسی کی عظمت اور قبولیت ڈال دی جاتی ہے جو خدا تعالیٰ کے لیے سب کچھ چھوڑنے اور کھونے پر آما دہ ہو جاتے ہیں نہ صرف آما دہ بلکہ چھوڑدیتے ہیں۔غرض یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے واسطے کھونے والوں کو سب کچھ دیا جاتا ہے۱ اور وہ نہیں مَرتے ہیں جب تک وہ اس سے کئی چند نہ پا لیں جو انہوں نے خدا کی راہ میں دیا ہے خدا تعالیٰ کسی کا قرض اپنے ذمہ نہیںرکھتا ہے مگر افسوس یہ ہے کہ ان باتوں کو ماننے والے اور ان کی حقیقت پر اطلاع پا نے والے بہت ہی کم لوگ ہیں۔