ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 101 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 101

کو درست نہ کیا؟ ان کو چاہیے کہ اصل قرآن شریف کی اشاعت کرتے اوراس کو درست کر دیتے، لیکن جبکہ انہوں نے بھی یہی قرآن رکھا اور اپنا صحیح اور درست قرآن شائع نہ کیا تو یہ الزام بھی ان کے اپنے ہی سررہا ان کا حق تھا اور ان پر فرض تھا کہ جب اصل قرآن شریف گم کر دیا گیا تھا تواس وقت تو بھلا وہ خوف کے مارے کچھ نہ کرسکتے تھے مگر ان کی وفات کے بعد توان کو موقع تھا کہ لوگوں میں اس اَمر کا اعلان کر دیتے کہ اصل قرآن شریف یہ ہے اور جو تمہارے پاس ہے وہ محرّف مبدّل ہو گیا ہے مگر جب انہوں نے ایسا نہیں کیا تو پھر یہ الزام ان پر رہا۔۱ ھُوَشَعْنَا براہین میں یہ ایک الہام حضرت اقدس کا درج ہے یہ ایک عبرانی لفظ ہے جس کے معنے ہیں ’’نجات دے ‘‘ فرمایا کہ یَامَسِیْحَ الْـخَلْقِ عَدْوَانَا کا مضمون اس سے ملتا جلتا ہے۔مامور کی اطاعت کا معیار فرمایا کہ ایک مامور کی اطاعت اس طرح ہونی چاہیے کہ اگر ایک حکم کسی کو دیاجاوے تو خواہ اس کے مقابلہ پر دشمن کیسا ہی لالچ اور طمع کیوں نہ دیوے یا کیسی ہی عجز اور انکساری اور خوشا مد درآمد کیوں نہ کرے مگر اس حکم پر ان باتوں میں سے کسی کو بھی تر جیح نہ دینی چاہیے اور کبھی اس کی طرف التفات نہ کرنی چاہیے۔سیرت اور خصلت اس قسم کی چاہیے کہ جس سے دوسرے آدمی پر اثر پڑے اور وہ سمجھے کہ ان لوگوں میں واقعی طور پر اطاعت کی روح ہے صحابہ کرام کی زندگی میں ایک بھی ایسا واقعہ نہ ملے گا کہ اگر کسی کو ایک دفعہ اشارہ بھی کیا گیا ہے تو پھر خواہ بادشاہ وقت نے ہی کتنا ہی زور کیوں نہ لگا یا مگر اس نے سوائے اس اشارہ کے اور کسی کی کچھ ما نی ہو۔اطاعت پوری ہو تو ہدایت پوری ہوتی ہے ہماری جماعت کے لوگوں کو خوب سن لینا چاہیے اور خدا سے توفیق طلب کرنی چاہیے کہ ہم سے کوئی ایسی حرکت نہ ہو۔۲ ۱ الحکم جلد ۷ نمبر ۱۷ مورخہ ۱۰ ؍مئی ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۳ ۲ البدرجلد ۲ نمبر ۱۶ مورخہ ۸ ؍مئی ۱۹۰۳ءصفحہ ۱۲۲،۱۲۳