ملفوظات (جلد 4) — Page 62
یقین ہو کہ میں ایک سمیع، علیم اور خبیر اور قادر ہستی کے سامنے کھڑا ہوا ہوں اگر اسے مہر آجاوے تو ابھی دے دیوے۔بڑی تضرع سے دعا کرے۔ناامید اور بدظن ہرگز نہ ہووے اگر اس طرح کرے تو (اس راحت کو) جلدی دیکھ لیوے گا اور خدا تعالیٰ کے اَور اَور فضل بھی شاملِ حال ہوں گے اور خود خدا بھی ملے گا تو یہ طریق ہے جس پر کاربند ہونا چاہیے مگر ظالم فاسق کی دعا قبول نہیں ہوا کرتی کیونکہ وہ خدا تعالیٰ سے لاپروا ہے اور خدا تعالیٰ بھی اس سے لاپروا ہے۔ایک بیٹا اگر باپ کی پروا نہ کرے اور ناخلف ہو تو باپ کو اس کی پروا نہیں ہوتی تو خد اکو کیوں ہو۔دعا اور ابتلا ایک صاحب نے عرض کی کہ بلعم باعور کی دعا کیوں قبول ہوئی تھی؟ فرمایا۔وہ ابتلا تھا دعا نہ تھی آخر وہ مارا ہی گیا۔دعا وہ ہوتی ہے جو کہ خدا کے پیارے کرتے ہیں ورنہ یوں تو خدا تعالیٰ ہندوئوں کی بھی سنتا ہے اور بعض ان کی مرادیں پوری ہو جاتی ہیں مگر ان کا نام ابتلا ہے دعا نہیں ہے مثلاً اگر خدا سے کوئی روٹی مانگے تو کیا نہ دے گا؟ اس کا وعدہ ہے مَا مِنْ دَآبَّةٍ فِي الْاَرْضِ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ رِزْقُهَا (ھود: ۷) کتّے بلّی بھی تو اکثر پیٹ پالتے ہیں اور کیڑوں مکوڑوں کو بھی رزق ملتا ہے مگر اصْطَفَيْنَا (فاطر: ۳۳)کا لفظ خاص موقعوں کے لئے ہے۔مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کا ثبوت یہاں تک تقریر حضرت اقدس نے مبائعین کے واسطے کی جن میں سے ایک توشیخ نور احمد پلیڈر اور دوسرے عابد علی شاہ صاحب بدوملہی تھے۔اس کے بعد حضور انور نے پھر ابوسعید عرب صاحب کو مخاطب ہو کر فرمایا کہ آپ نے جو ثبوت مسیحیت کے دعویٰ کے بارے میں پوچھا تھا یہ بہت ضروری بات تھی اور اس کو خوب یاد رکھنا چاہیے۔اگر آپ سے کوئی ان ممالک (ملک برہما) میں پوچھے کہ ہماری صداقت کا کیا ثبوت ہے تو مختصر طور پر یہی جواب دینا چاہیے کہ وہی ثبوت ہے جو کہ موسٰی اور عیسیٰ علیہ السلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے ہونے کا ہے تمام انبیاء کی صداقت کے دو ہی ثبوت ہوتے ہیں۔اوّل۔کتب سابقہ میں ان کا ذکر مگر وہ استعارہ کے رنگ میں ضرور ہوتا ہے اور اس میں ایک پہلو ٹھوکر کا