ملفوظات (جلد 4) — Page 61
الصّٰلِحِيْنَ(الاعراف: ۱۹۷) حدیث شریف میں آیا ہے کہ اﷲ تعالیٰ ان کے ہاتھ ہو جاتا ہے جس سے وہ پکڑتے ہیں۔ان کی آنکھ ہو جاتا ہے جس سے وہ دیکھتے ہیں۔ان کے کان ہو جاتا ہے جس سے وہ سنتے ہیں۔ان کے پائوں ہو جاتا ہے جس سے وہ چلتے ہیں اور ایک اور حدیث میں ہے کہ جو میرے ولی کی دشمنی کرتا ہے میں اس سے کہتا ہوں کہ میرے مقابلہ کے لئے طیار رہو۔اور ایک جگہ فرمایا ہے کہ جب کوئی خدا کے ولی پر حملہ کرتا ہے تو خدا تعالیٰ اس پر ایسے جھپٹ کر آتا ہے جیسے ایک شیرنی سے کوئی بچہ اس کا چھینے تو وہ غضب سے جھپٹتی ہے۔نماز کی اہمیت خدا کی رحمت کے سر چشمہ سے فائدہ اٹھانے کا اصل قاعدہ یہی ہے اورخدا تعالیٰ کا یہ خاصّہ ہے کہ جیسے اس (انسان) کا قدم بڑھتا ہے ویسے ہی پھر خد اکا قدم بڑھتا ہے۔خدا تعالیٰ کی خاص رحمتیں ہر ایک کے ساتھ نہیں ہوتیں اور اسی لئے جن پر یہ ہوتی ہیں ان کے لئے وہ نشان بولی جاتی ہیں۔(اس کی نظیر دیکھ لو) کہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم پر ان کے دشمنوں نے کیا کیا کوششیں آپ کی ناکامیابی کے واسطے کیں مگر ایک پیش نہ گئی حتی کہ قتل کے منصوبے کئے مگر آخر ناکامیاب ہی ہوئے۔خدا تعالیٰ یہ تجویز پیش کرتا ہے (اس خاص رحمت کے حصول کے واسطے جو اخلاق وغیرہ حاصل کئے جاویں تو) ان امروں کو چاہیے کہ خدا تعالیٰ کے سامنے پیش کیا جاوے نہ کہ ہمارے سامنے۔اپنے دلوں میں خدا تعالیٰ کی محبت اور عظمت کا سلسلہ جاری رکھیں اور اس کے لئے نماز سے بڑھ کر اور کوئی شَے نہیں ہے۔کیونکہ روزے تو ایک سال کے بعد آتے ہیں۔اور زکوٰۃ صاحبِ مال کو دینی پڑتی ہے مگر نماز ہے کہ ہر ایک (حیثیت کے آدمی) کو پانچوں وقت ادا کرنی پڑتی ہے اسے ہرگز ضائع نہ کریں۔اسے بار بار پڑھو اور اس خیال سے پڑھو کہ میں ایسی طاقت والے کے سامنے کھڑا ہوں کہ اگر اس کا ارادہ ہو تو ابھی قبول کر لیوے۔اُسی حالت میں بلکہ اسی ساعت میں بلکہ اُسی سیکنڈمیں۔کیونکہ دوسرے دنیاوی حاکم تو خزانوں کے محتاج ہیں اور ان کو فکر ہوتی ہے کہ خزانہ خالی نہ ہو جاوے اور ناداری کا ان کو فکر لگا رہتا ہے مگر خدا تعالیٰ کا خزانہ ہر وقت بھرا بھرایا ہے۔جب اس کے سامنے کھڑا ہوتا ہے تو صرف یقین کی حاجت ہوتی ہے کہ اسے اس اَمر پر