ملفوظات (جلد 4) — Page 63
بھی ہوتا ہے جیسے یہود کو دھوکا لگا ہے کہ آنحضرتؐکو تو بنی اسرائیل میں سے آنا چاہیے تھا بنی اسماعیل میں سے کیوں ہوئے اور پھر اسی طرح مسیحؑ کے وقت الیاس کے منتظر رہے۔ان معاملوں میں اب تک جھگڑتے ہیں اور یہ سب ان کی بکواس ہے۔اسی طرح ہمارا ذکر کتب سابقہ میں ہے۔اگر کوئی ہم سے بھی اسی طرح بکواس سے جھگڑا کرے تو انہی میں سے ہوگا۔دوسرا ثبوت نشانات ہیں جن سے بہت صفائی سے استنباط ہوتا ہے وہی ثبوت ہمارے ساتھ بھی ہے اور جس قاعدہ سے خدا تعالیٰ نے یہ نشانات دکھلائے ہیں اگر اسی طرح شمار کریں تو یہ بیس لاکھ سے بھی زیادہ ہو جاتے ہیں۔کیونکہ یَاْتُوْنَ مِنْ کُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍ اور یَاْتِیْکَ مِنْ کُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍ کے تحت میں آکر ہر ایک شخص جو ہمارے پاس آتا ہے اور ہر ایک ہدیہ اور نذر جو پیش ہوتی ہے ایک ایک نشان الگ الگ ہے مگر ہم نے صرف نشان ایک سو پچاس نزول المسیح میں درج کئے ہیں جس کے ہزارہا گواہ موجود ہیں۔پھر دیکھو کہ یہ کس وقت کی خبر ہے۔قرآن کی نصوص، حدیث کی اخبار اور مکاشفات اور رؤیا وغیرہ سب ہماری تائید میں ہے، پھر اس کے علاوہ خدا تعالیٰ کے نشانات۔پھر زمانہ کی موجودہ ضرورت یہ سب ثبوت پیش کرنے کے قابل ہیں۔اس وقت خدا کا منشا ہے کہ لوگوں کو غلطیوں سے نکالے اور تقویٰ پر قائم کرے۔خدا تعالیٰ جس جس کو چاہے گا بلا تا جاوے گا۔یہ اس کی طرف سے ایک دعوت ہے جو بلایا جاتا ہے اسے فرشتے کھینچ کھینچ کر لے آتے ہیں۔۱ ۱۰؍جنوری ۱۹۰۳ء مولوی ثناء اﷲ صاحب کا قادیان آنا عصر کے وقت خدا کے برگزیدہ حضرت مسیح موعودؑکو یہ خبر ہوئی کہ مولوی ثناء اﷲ امرتسری قادیان ۱ البدر جلد ۲ نمبر ۴ مورخہ ۱۳؍ فروری ۱۹۰۳ء صفحہ ۲۶تا ۲۹