ملفوظات (جلد 4) — Page 60
جب کسی کا علاج کرتا ہے تو جب تک اسے ایک صراط مستقیم ہاتھ نہ آوے علاج نہیں کرسکتا۔اسی طرح تمام وکیلوں اور ہر پیشہ اور علم کی ایک صراط مستقیم ہے کہ جب وہ ہاتھ آجاتی ہے تو پھر کام آسانی سے ہوجاتا ہے۔اس مقام پر ایک صاحب نے اعتراض کیا کہ انبیاء کو اس دعا کی کیوں ضرورت تھی وہ تو پیشتر ہی سے صراط مستقیم پر ہوتے ہیں؟ تلمیذ الرحمٰن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ وہ یہ دعا ترقی مراتب اور درجات کے لئے طلب کرتے ہیں بلکہ یہ اِهْدِنَاالصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ توآخرت میں مومن بھی مانگیں گے کیونکہ جیسے اﷲ تعالیٰ کی کوئی حد نہیں ہے اسی طرح اس کے پاس درجات اور مراتب کی ترقی کی بھی کوئی حد نہیں ہے۔۱ تقویٰ کی حقیقت (پھر اصل مضمون تقویٰ پر فرمایا کہ) متقی بننے کے واسطے یہ ضروری ہے کہ بعد اس کے کہ موٹی باتوں جیسے زنا، چوری، تلفِ حقوق، ریا، عُجب، حقارت، بخل کے ترک میں پکا ہو تو اخلاق رذیلہ سے پرہیز کرکے ان کے بالمقابل اخلاق فاضلہ میں ترقی کرے۔(اس کے لئے حضرت اقدس کی تصنیف اسلام کی فلاسفی اور کشتی نوح مطالعہ کرنی چاہیے) لوگوں سے مروّت، خوش خلقی، ہمدردی سے پیش آوے اور خدا تعالیٰ کے ساتھ سچا وفا اور صدق دکھلاوے۔خدمات کے مقام محمود تلاش کرے۔ان باتوں سے انسان متقی کہلاتا ہے اور جو لوگ ان باتوں کے جامع ہوتے ہیں۔وہی اصل متقی ہوتے ہیں (یعنی اگر ایک ایک خُلق فرداً فرداً کسی میں ہو تو اسے متقی نہ کہیں گے جب تک بحیثیت مجموعی اخلاقِ فاضلہ اس میں نہ ہوں) اور ایسے ہی شخصوں کے لئے لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَ لَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ(البقرۃ: ۶۳)ہے۔اور اس کے بعد ان کو کیا چاہیےکہ اﷲ تعالیٰ ایسوں کا متولّی ہو جاتا ہے جیسے کہ وہ فرماتا ہے وَ هُوَ يَتَوَلَّى ۱ الحکم میں یہ عبارت یوں ہے۔’’چونکہ اللہ تعالیٰ غیر محدود ہے اس کے فیضان و فضل بھی غیر منقطع ہیں۔اس لئے وہ ان غیر محدود فضلوں کے حاصل کرنے کے لئے اس دعا کو مانگتے تھے۔‘‘ (الحکم جلد ۷ نمبر ۳ مورخہ ۲۴؍ جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۲ )