ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 23 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 23

ایک طرف تو میری یہ حالت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہیں اور دوسری طرف میں یہاں تک گر گیا کہ ایک کافر میرے ایمان میں طمع کرنے لگا۔مجھ سے ضرور کوئی سخت معصیت ہوئی ہے۔جس قدر زیادہ دینداری اور خدا پرستی ہوگی اسی قدر اہلِ دنیا سے نفرت پیدا ہوگی۔سلسلہ کی اشاعت ہم کو جس قدر تکالیف دی گئی ہیں اور جس قدر سبّ و شتم کیا گیا ہے۔یہ ہماری تبلیغ کے لئے ایک ذریعہ ہو گیا ہے۔جیسے جس قدر گرمی شدت سے ہو برسات بھی اسی نسبت سے زیادہ ہوتی ہے۔عرب کے لوگ عیش وعشرت اور ناپاک خواہشوں اور فعلوں میں مستغرق تھے۔انہیں مذہب اور مذہبی مباحثات سے کیا کام تھا مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابل یوں کھڑے ہو گئے جیسے کوئی بڑا عاشق مذہب دیندار ہوتا ہے۔یہ سب کچھ اس لئے تھا کہ اس شور سے ساری قوموں میں جلد جلد آپ کی دعوت پھیل جائے۔انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بڑی تکالیف دیں مگر آخر وہی ہوا جو خدا کا منشا تھا۔اسی طرح پر یہاں دیکھ لو کہ کس قدر زور شور سے مخالفت ہوئی اور ہو رہی ہے۔بہت سے لوگ ہیں جو بدعات اور بدکاریوں میں مبتلا ہیں۔اکثر ہیں جو کنجریوں کے پیر بنے ہوئے ہیں۔اور بھنگ، چرس، مدک، تاڑی، گانجا، شراب وغیرہ پیتے ہیں یہ دہریہ ہوتے ہیں مگر کوئی ان سے تعرض نہیں کرتا۔برخلاف اس کے ہماری اس قدر مخالفت کی جاتی ہے کہ ایک چھوٹے سے مسئلہ وفات و حیات مسیح پر وہ شور اٹھایا گیا جس کی حد نہیں رہی۔قتل کے فتوے دیئے گئے۔اس میں راز یہی ہے کہ اﷲ تعالیٰ اس سلسلہ کی اشاعت چاہتا ہے۔(دربارِ شام) بیعت کے بعد طاعون کا ذکر ہوا جس پر حضرت اقدسؑ نے ایک لمبی تقریر طاعون کے متعلق فرمائی ہم کسی قدر تلخیص کے ساتھ اس کو ذیل میں لکھتے ہیں۔تقویٰ کی ضرورت فرمایا۔جب تک انسان تقویٰ میں ایسا نہ ہو جیسے اونٹ کو سُوئی کے ناکے سے نکالنا پڑے اس وقت تک کچھ نہیں ہوتا۔جس قدر زیادہ تقویٰ اختیار کرتا ہے اسی قدر اﷲ تعالیٰ بھی توجہ فرماتا ہے۔اگر یہ اپنی توجہ معمولی رکھتا ہے تو اﷲ تعالیٰ بھی