ملفوظات (جلد 4) — Page 24
معمولی توجہ رکھتا ہے۔طاعون کا عذاب خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے غَضِبْتُ غَضْبًا شَدِیْدًایہ طاعون کے متعلق ہے اور پھر فرمایا اِنِّیْ مَعَ الرَّسُوْلِ اَقُوْمُ وَاَلُوْمُ مَنْ یَّلُوْمُ۔اُفْطِرُ وَاَصُوْمُ۔میں اپنے رسول کے ساتھ کھڑا ہوں گا اور اس کو ملامت کروں گا جو ملامت کرتا ہے۔میں روزہ کھولوں گا بھی اور روزہ رکھوں گا بھی۔یہ سب الہام طاعون کے متعلق ہیں۔ملامت ایک دل کے ساتھ ہوتی ہے اور ایک زبان کے ساتھ۔زبان کے ساتھ تو یہی ملامت ہے جو مخالف کرتے ہیں۔لیکن دل کی ملامت یہ ہے کہ ان باتوں کی طرف توجہ نہ کرے جو ہم پیش کرتے ہیں اور ان پر عمل کے لئے طیار نہ ہو۔روزہ رکھوں گا اور کھولوں گا۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک وقت تک گویا طاعون کا زور گھٹ جائے گا۔یہ روزے کے دن ہوں گے اور ایک وقت ایسا ہوگا کہ اس میں کثرت سے ہوگی۔اب دیکھا گیا ہے کہ کثرت سردی اور کثرت گرمی میں اس کی شدت اور تیزی رک جاتی ہے۔لیکن بہاری موسم فروری،مارچ اور ستمبر، اکتوبر میں اس کا زور بڑھ جاتا ہے۔مگر یہ یاد رکھنا چاہیے کہ یہ دورے تھمنے والے نہیں ہیں خدا کے کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے دورے شدید ہیں۔زمین پر خدا تعالیٰ سے غفلت اور سستی پھیل گئی ہے۔نیکیوں کی طرف توجہ نہیں رہی۔ایسی صورت میں کیا اس کا علاج ڈاکٹری اصولوں سے ہوگا یا کوئی اور علاج اثر پذیر ہوسکے گا جب تک خدا کی مرضی نہ ہو؟ مت خیال کرو کہ ہمارا ملک یا شہریا گائوں ابھی تک محفوظ ہے۔یہ کل دنیا کے لئے مامور ہو کر آئی ہے اور اپنے اپنے وقت پر ہر جگہ پھرے گی۔اس کے دورے بڑے لمبے ہوتے ہیں۔بعض وقت لوگ ان وجوہات کو نہیں سمجھ سکتے۔لیکن یاد رکھو کہ جو کچھ ہو رہا ہے اﷲ تعالیٰ کے حکم اور اِیما سے ہو رہا ہے۔اب اس کے وجوہ موٹے ہیں۔بائیس برس پہلے خدا نے براہین میں مجھے اس کی خبر دی اور پھر متواتر وقتاً فوقتاً وہ اطلاع دیتا رہا۔یہاں تک کہ جب ابھی پنجاب کے دو ضلعوں میں تھی تو اس نے مجھے بتایا کہ کل پنجاب اس کے اثر سے متاثر ہو جائے گا۔اس وقت لوگوں نے اس پر ہنسی