ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 22 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 22

میدان میں ترقی کریں یہی بڑی کامیابی ہے اور اس سے بڑھ کر کوئی چیز مؤثر نہیں ہوسکتی۔اس وقت کل دنیا کے مذاہب کو دیکھ لو کہ اصل غرض تقویٰ مفقود ہے اور دنیا کی وجاہتوں کو خدا بنایا گیا ہے۔حقیقی خدا چھپ گیا ہے اور سچے خدا کی ہتک کی جاتی ہے مگر اب خد اچاہتا ہے کہ وہ آپ ہی مانا جاوے اور دنیا کو اس کی معرفت ہو جو لوگ دنیا کو خدا سمجھتے ہیں وہ متوکّل نہیں ہوسکتے۔(اس سیر میں سے ہم نے مضمون غیر کو نکال کر آپ ہی کی تقریر کے مختلف فقروں کو ایک جاجمع کر دیا ہے۔ایڈیٹر) جماعت کی تعداد ظہر سے پہلے لودھیانہ سے آئے ہوئے احباب نے شرفِ نیاز حاصل کیا۔قاضی خواجہ علی صاحب نے مولوی محمد حسین صاحب کی ملاقات کا ذکر کیا کہ میں نے ان کو کہا تھا کہ قادیان چلو۔فرمایا۔اگر وہ یہاں آجاوے تو اس کو اصل حالات معلوم ہوں اور ہماری جماعت کی ترقی کا پتا لگے وہ ابھی تک تین سو تک ہی کہتا ہے اور یہاں اب ڈیڑھ لاکھ سے بھی زیادہ تعداد بڑھ گئی ہے۔اگر شبہ ہو تو گورنمنٹ کے حضور درخواست کرکے ہماری جماعت کی الگ مَردم شماری کرالیں۔براہین احمدیہ میں جو لکھا تھا کہ اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُ۔وَانْتَـھٰی اَمْرُ الزَّمَانِ اِلَیْنَا۔اَلَیْسَ ھٰذَابِالْحَقِّ۔اب دیکھیں کہ وہ وقت آیا ہے یا نہیں۔گورنمنٹ پنجاب کی خدمت میں جو میموریل ستمبر ۱۸۹۹ء میں بھیجا گیا تھا۔اس میں صاف اس اَمر کی پیشگوئی ہے کہ یہ جماعت تین سال میں ایک لاکھ ہو جائے گی اور وہ پوری ہو گئی۔بہت سے لوگ ایسے ضعفاء و غرباء میں سے ہیں جو اس سلسلہ میں داخل ہو چکے ہیں مگر آنہیں سکتے۔دنیا کے بارہ میں دیندار کا رویّہ فرمایا۔دیندار آدمی دنیا داروں کی طرف رجوع کرنے میں اپنی ذلّت اور توہین سمجھتا ہے۔ایک صحابی پر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ناراض تھے۔اس وقت ایک بادشاہ نے اپنا سفیر اس کے پاس بھیجا اور چاہا کہ وہ اس کے پاس چلے آویں۔صحابی نے اس خط کو لے کر تنور میں پھینک دیا اور رونا شروع کر دیا کہ