ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 218 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 218

اس کا امتحان کیا جاوے میں دعا کروں گا۔آپ وقتاً فوقتاً یاد دلاتے رہیں اگر کچھ ظاہر ہوا تو اس سے بھی اطلاع دوں گا مگر یہ میرا کام نہیں۔خدا تعالیٰ چاہے تو ظاہر کرے۔وہ کسی کے منشا کے ماتحت نہیں ہے بلکہ وہ خدا ہے اور غَالِبٌ عَلٰۤى اَمْرِهٖ ہے۔ایمان کو کسی اَمر سے وابستہ کرنا منع ہے۔مشروط بشرائط ایمان کمزور ہوتا ہے۔نیکی میں ترقی کرنا کسی کے اختیار میں نہیں ہے۔ہمدردی کرنا ہمارا فرض ہے۔اس کے لیے شرائط کی ضرورت نہیں۔ہاںیہ ضروری ہوگا کہ آپ ہنسی ٹھٹھے کی مجلسوں سے دور رہیں۔یہ وقت رونے کا ہے نہ ہنسی کا۔اب آپ جائیں گے موت حیات کا پتا نہیں۔دو تین ہفتہ تک تو سچے تقویٰ سے دعائیں مانگو کہ الٰہی مجھے معلوم نہیں تو ہی حقیقت کو جانتا ہے مجھے اطلاع دے۔اگر صادق ہے تو اس کے انکار سے ہلاک نہ ہو جاؤں اور اگر کاذب ہے تو اس کی اتباع سے بچا۔اللہ تعالیٰ چاہے تو اصل اَمر کو ظاہر کر دے گا۔نووارد۔میں سچ عرض کرتا ہوں کہ میں بہت بُرا ارادہ کر کے آیا تھا کہ میں آپ سے استہزا کروں اور گستاخی کروں مگر خدا نے میرے ارادوں کو رد کردیا۔میں اب اس نتیجہ پر پہنچاہوں کہ جو فتویٰ آپ کے خلاف دیا گیا ہے وہ بالکل غلط ہے اور میں زور دے کر نہیں کہہ سکتا کہ آپ مسیح موعود نہیں ہیں بلکہ مسیح موعود ہونے کا پہلو زیادہ زور آور ہے اور میں کسی حد تک کہہ سکتا ہوں کہ آپ مسیح موعود ہیں۔جہاں تک میری عقل اور سمجھ تھی میں نے آپ سے فیض حاصل کیا ہے اور جو کچھ میں نے سمجھا ہے میں ان لوگوں پر ظاہر کروں گا جنہوں نے مجھے منتخب کر کے بھیجا ہے۔کل میری اَور رائے تھی اور آج اور ہے۔آپ جانتے ہیں کہ اگر ایک پہلوان بغیر لڑنے کے زیر ہوجائے تو وہ نامَرد کہلائے گا۔اس لیے میں نے مناسب نہیں سمجھا کہ بدوں اعتراض کیے تسلیم کر لیتا۔چونکہ میں معتمد ان لوگوں کا ہوں جنہوں نے مجھے بھیجا ہے اس لیے میں نے ہر ایک بات کو بغیر دریافت کیے ماننا نہیں چاہا۔دعا کے لیے میںنے جو لکھا تھا دنیا کی خواہش سے نہیں لکھا تھا۔میں اس دادا کا پوتاہوں جس کے ہندوستان میں اڑھائی سو مرید ہیں۔مگر میں آزاد طبیعت کا آدمی ہوں اور اس میں انصاف ہے۔