ملفوظات (جلد 4) — Page 219
نیکی ضائع نہیں ہوتی حضرت اقدس۔اللہ تعالیٰ کسی کی نیکی کو ضائع نہیں کرتا بلکہ ادنیٰ سی نیکی بھی ہو تو اس کا ثمرہ دیتا ہے۔میں نے ایک کتاب میں نقل دیکھی ہے کہ ایک شخص نے اپنے ہمسایہ آتش پرست کو دیکھا کہ چند روز کی برسات کے بعد وہ اپنے کوٹھے پر جانوروں کو دانے ڈال رہا تھا۔میں نے اس سے پوچھا کہ تو کیا کر رہا ہے؟ اس نے کہا کہ جانوروں کو دانے ڈال رہا ہوں۔میں نے کہا کہ تیرا عمل بے کار ہے۔اس گبر نے اس کو کہا کہ اس کا ثمرہ مجھے ملے گا۔پھر وہی بزرگ کہتے ہیں کہ جب دوسرے سال مَیں حج کرنے کو گیا تو دیکھا وہی گبر طواف کر رہا ہے اس نے مجھے پہچان کر کہا کہ ان دانوں کا ثواب مجھے ملا یا نہیں؟ ایسا ہی ایک حدیث میں آیا ہے کہ ایک صحابیؓ نے پوچھا کہ میں نے زمانہ جاہلیت میں سخاوت کی تھی یا رسول اللہ مجھے اس کا ثواب ملے گا یا نہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسی سخاوت نے تو تجھے مسلمان کیا۔ہزاروں آدمی بغیر دیکھے گالیاں دینے کو تیار ہوجاتے ہیں لیکن جب دیکھتے ہیں اور آتے ہیں تو وہ ایمان لاتے ہیں۔میرا یہ مذہب نہیں کہ انسان صدق اور اخلاص سے کام لے اور وہ ضائع ہوجاوے۔پھر حضرت حجۃ اللہ نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اسلام لانے کا قصہ بیان کیا جو کئی بار ہم نے الحکم میں درج کیا ہے اور اس بات پر آپ نے تقریر کو ختم کیا۔؎ مَردانِ خدا خدا نہ باشند لیکن از خدا جُدا نہ باشند ۱ ۱۵ ؍فروری ۱۹۰۳ء ایک نووارد اور حضرت اقدس علیہ السّلام (بوقتِ سیر) اعلیٰ حضرت حجۃ اللہ علی الارض مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کو یہ مقصود تھا کہ جس طرح ممکن ہو ۱ الحکم جلد ۷نمبر ۷ مورخہ ۲۱؍فروری ۱۹۰۳ء صفحہ ۵ تا ۹