ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 217 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 217

یعنی ہاںحاجت تو ہے لیکن تمہاری طرف نہیں۔ایسے مقام پر دعا بھی منع ہوتی ہے اور انبیاء علیہم السلام اس مقام کو خوب سمجھتے ہیں۔ع گر حفظ مراتب نہ کنی زندیقی غرض اصل غرض انسان کی محبتِ ذاتی ہونی چاہیے۔اس سے جو کچھ اطاعت اور عبادت ہوگی وہ اعلیٰ درجہ کے نتائج اپنے ساتھ رکھے گی۔ایسے لوگ خدا کے مبارک بندے ہوتے ہیں وہ جس گھر میں ہوں وہ گھر مبارک اور جس شہر میں ہوں وہ شہر مبارک۔اس کی برکت سے بہت سی بلائیں دور ہوجاتی ہیں اس کی ہر حرکت و سکون اس کے در و دیوار پر خدا کی برکت اور رحمت نازل ہوتی ہے۔میں اسی راہ کو سکھانا چاہتا ہوں۔اسی غرض کے لیے خدا نے مجھے مامور کیا ہے۔یقیناً یاد رکھو کہ پوست کام نہیں آتا بلکہ مغز کی ضرورت ہے۔لکھا ہے کہ ایک یہودی سے کسی مسلمان نے کہا کہ تو مسلمان ہوجا۔کہا کہ میں تیرے قول کو تیرے فعل سے نفرت کی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔میںنے اپنے بیٹے کا نام خالد رکھا تھا حالانکہ شام تک میں اس کو قبر میں بھی دفن کر آیا۔نام کچھ حقیقت اپنے اندر نہیں رکھتا جب تک کام نہ ہو۔اسی طرح پر خدا تعالیٰ مغز اور حقیقت کو چاہتا ہے۔رسم اور نام کو پسند نہیں کرتا۔جب انسان سچے دل سے سچے اسلام کی تلاش کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ اس کو اپنی راہیں دکھا دیتا ہے جیسے فرمایا وَ الَّذِيْنَ جَاهَدُوْا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا(العنکبوت:۷۰) خدا تعالیٰ بخیل نہیں۔اگر انسان مجاہدہ کرے گا تو وہ یقیناً اپنی راہ کو ظاہر کر دے گا۔ہماری مخالفت میں افترا کرتے اور گالیاں دیتے ہیں۔اگر تقویٰ سے کام لیتے۔اگر زمانہ کی اندرونی بیرونی ضرورتیں ان کی رہنمائی نہ کر سکتی تھیں تو خدا تعالیٰ کی جناب میں تضرّع اور ابتہال سے کام لیتے اور رو رو کر دعائیں مانگتے تو یقیناً اللہ تعالیٰ ان کی رہنمائی کر دیتا اور حق کھول دیتا۔مومنِ حقیقی، مسیح کے وقت وہی ہوگا جو اس کا تابع ہوگا۔اگر میں صادق ہوں اور ضرور ہوں تو پھر آپ سمجھ لیں کہ میرے مکذّب کا کیا حال ہے۔نو وارد۔آپ میرے لیے دعا کریں۔حضرت اقدس۔دعا تو میں ہندو کے لیے بھی کرتا ہوں مگر خدا تعالیٰ کے نزدیک یہ اَمر مکروہ ہے کہ