ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 202 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 202

ہیں۔یہ بھی ہم ان کا احسان سمجھتے ہیں کہ نرمی سے باتیں کریں۔۱ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ زیارت کرنے والے کا تیرے پر حق ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ اگر مہمان کو ذرا سا بھی رنج ہو تو وہ معصیت میں داخل ہے۔اس لیے میں چاہتا ہوں کہ آپ ٹھہریں۔چونکہ کلمہ کا اشتراک ہے جب تک یہ نہ سمجھیں جو کہیں ان کا حق ہے۔۲ ۱۴؍فروری ۱۹۰۳ء ( صبح کی سیر) چونکہ نو وارد صاحب کو پوری طرح تبلیغ کرنا حضرت حجۃ اللہ کا منشاتھا لہٰذا سیر میں بھی اس کو خطاب کرکے آپ نے سلسلہ تقریر شروع فرمایا(ایڈیٹر)۳ مامور کے آنے پر دو گروہ ہو جاتے ہیں میں نے بہت غور کیا ہے کہ جب کوئی مامور آتا ہے تو دو گروہ خودبخود ہو جاتے ہیں البدر میں ہے۔فرمایا۔’’ اگر کوئی مہمان آوے اور سبّ وشتم تک بھی اس کی نوبت پہنچے تو تم کو چاہیے کہ چپ کر رہو جس حال میں کہ وہ ہمارے حالات سے واقف نہیں ہے نہ ہمارے مُریدوں میں وہ داخل ہے تو کیا حق ہے کہ ہم اس سے وہ ادب چاہیں جو ایک مرید کو کرنا چاہیے۔یہ بھی ان کا احسان ہے کہ نرمی سے بات کرتے ہیں۔خدا کرے کہ ہماری جماعت پر وہ دن آوے کہ جو لوگ محض نا واقف ہیں اگر وہ آویں تو بھائیوں کی طرح سلوک کریں۔بھلا ان لوگوں کو کیا پڑی ہے کہ تکلیف اُٹھا کر کچی سڑک پر دھکے کھاتے آتے ہیں۔پیغمبر خدا فرماتے ہیں کہ زیارت کرنے والے کا حق ہے کہ جو چاہے کہے۔ہمارے لیے تلخی کرنامعصیت ہے ان کو اسی لیے ٹھہراتا ہوں کہ یہ غلطی رفع ہو۔بھائیوں کی طرح سلوک کیا کرو اور پیش آیا کرو۔‘‘ (البدر جلد ۲ نمبر ۷ مورخہ ۶ ؍مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ ۵۱ ) ۲ الحکم جلد۷ نمبر ۷ مورخہ ۲۱؍فروری۱۹۰۳ءصفحہ ۳تا۵ ۳ البدر میں سلسلہ تقریر شروع کرنے سے پہلے مندرجہ ذیل مکالمہ کا ذکر ہے۔حضرت اقدس تشریف لائے تو آتے ہی آپ نے محمد یوسف صاحب نووارد مہمان سے دریافت فرمایا کہ کیا آپ نے توقّف کا ارادہ کر لیا ہے؟ محمد یوسف صاحب۔آج تو ضرور ہی ٹھہروں گا۔حضرت اقدس۔ہم آپ کو کتابیں دے دیں گے خود بھی دیکھنا اوروں کو بھی دکھانا۔(البدر جلد ۲ نمبر ۷ مورخہ ۶؍مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ ۵۱ )