ملفوظات (جلد 4) — Page 203
ایک موافق دوسرا مخالف اور یہ بات بھی ہر ایک عقل سلیم رکھنے والا جانتا ہے کہ اس وقت ایک جذب اور ایک نفرت پیدا ہو جاتی ہے یعنی سعید الفطرت کھچے چلے آتے ہیں اور جو لوگ سعادت سے حصہ نہیں رکھتے ان میں نفرت بڑھنے لگتی ہے۔یہ ایک فطرتی بات ہے۔اس میں کوئی اختلاف نہیں ہوسکتا۔طبیب اس اَمر کو بخو بی سمجھ سکتا ہے کہ اس سے وہی شخص فائدہ اُٹھا سکتا ہے جو اوّل اپنے مرض کو شناخت کرے اور محسوس کرے کہ میں بیمار ہوں اور پھر یہ شناخت کرے کہ طبیب کون ہے؟ جب تک یہ دو باتیں پیدا نہ ہوں وہ اس سے فائدہ نہیں اُٹھا سکتا۔یہ بھی یاد رہے کہ مرض دو قسم کے ہوتے ہیں۔ایک مرض مختلف ہوتا ہے جیسے قولنج کا درد یعنی جو محسوس ہوتا ہے اور ایک مستوی جیسے برص کے داغ کہ ان کا کوئی درد اور تکلیف بظاہر محسوس نہیں ہوتی۔انجام خطرناک ہوتا ہے مگر انسان ایسی صورتوں میں ایک قسم کا اطمینان پا تا ہے اور اس کی چنداں فکر نہیں کرتا۔اس لیے ضروری ہے کہ انسان اوّل اپنے مرض کو شناخت کرے اور اسے محسوس کرے پھر طبیب کو شناخت کرے بہت سے لوگ ہوتے ہیں جو اپنی معمولی حالت پر راضی ہو جاتے ہیں۔۱ ّّیہی حال اس وقت ہو رہا ہے۔اپنی حالت پر خوش ہیں اور کہتے ہیں کہ مہدی کی کیا ضرورت ہے حالانکہ خدا دانی اور معرفت سے بالکل خالی ہو رہے ہیں۔البدر میں یہ مضمون یوں درج ہے۔امراض کی دو قسمیں بیان کرنے کے بعد لکھا ہے۔’’اسی طرح انسان کی حالت ہے وہ دُنیا میں آتا ہے۔برص کی طرح اُسے امراض لگے ہوئے ہوتے ہیں اُسے اس بات کا علم نہیں ہو تا۔سب سے اوّل اُسے یہ چاہیے کہ مرض کو دریافت کرے جس میں وہ مبتلا ہے بہت لوگ ہیں کہ کہتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں اور کلمہ گو بھی ہیں مگر وہ مسیح کی ضرورت کو محسوس نہیں کرتے۔بات یہ ہے کہ اسلام میں داخل ہونا ایک مشکل اَمر ہے اور خدادانی کوئی منہ کی بات نہیں۔جب سچے طور سے انسان کو آنکھ (عطا) کی جاتی ہے اس وقت اس کو خدا کا خوف اور خشیت پیدا ہوتی ہے۔کبائر تو موٹے گناہ ہیں جن کو ہر ایک جانتا ہے لیکن صغائر مثل چیونٹیوں کے انسان کو چمٹے ہوئے ہیں۔ان کا ترک کرنا ایک مشکل اَمر ہے۔ایک نئی تبدیلی جب تک انسان کے اندر نہ ہو تب تک اُسے اُن کا علم ہی نہیں ہو تا۔جب یہ ہو تو وہ محسوس کرتا ہے کہ میں ایک اَور اورنیا انسان ہو ں۔اس وقت تک اس کی ترقی طلب بھی نہیں ہوتی۔یہ اس وقت ہوتی ہے جب اس کے دل میں یہ خیا ل پیدا ہو کہ میں گناہوں سے بچوں۔‘‘ ( البدر جلد۲ نمبر ۷ مو ر خہ ۶؍مارچ ۳ ۱۹۰ء صفحہ ۵۱،۵۲)